BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں کا ملک بھر میں یوم احتجاج

ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا
پاکستان بھر میں منگل کو صحافیوں اور اخباری صنعت سے متعلق کارکنوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنسلٹ اور اخباری کارکنوں کی تنظیم ایپنک کی اپیل پر یوم مطالبات منایا۔

یوم احتجاج کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں صحافیوں اور اخباری کارکنوں نے ریلیاں اور احتجاج جلسے منعقد کیئے۔ پی ایف یو جے اور ایپنک نے ویج بورڈ ایوارڈ کے عدم نفاذ، کانٹریکٹ ملازمت کی لعنت اور آزادی صحافت کے خلاف قوانین کے مسائل پر یوم احتجاج مناننے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسلام آباد میں صحافیوں کی تنظیم راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ نے راولپنڈی پریس کلب اسلام آباد کیمپ آفس میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔

جلسہ میں پی ایف یو جے کے صدر پرویز شوکت، نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی صدر فوزیہ شاہد، آر آئی یو جے کے سیکریٹری جنرل طارق عثمانی اور پی ایف یو جے کے سابق سیکریٹری جنرل سی آر شمسی نے خطاب کیا۔

 اجتجاجی جلسے میں اعلان کیا گیا کہ پندرہ ستمبر کو صحافی اور اخباری کارکن اپنے مطالبات کے حق میں ٹرین مارچ کریں گے جس کے بعد ایوان صدر کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔

اجتجاجی جلسے میں اعلان کیا گیا کہ پندرہ ستمبر کو صحافی اور اخباری کارکن اپنے مطالبات کے حق میں ٹرین مارچ کریں گے جس کے بعد ایوان صدر کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔

کوئٹہ میں صحافیوں اور اخباری کاکنوں نے ساتویں ویج بورڈ ایوارڈ کے نفاذ کے لیے پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتال کی ہے ۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ اب آٹھویں ویج بورڈ کے نفاز کا وقت آگیا ہے لیکن ذرائع ابلاغ کے مالکان نے اب تک ساتویں ویج پورڈ پر عمل نہیں کیا ہے۔

بی یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ علامتی بھوک ہڑتال پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے پشاور میں منعقدہ اجلاس کی فیصلے کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ اس ہڑتال کا مقصد حکومت کو یاد دلانا ہے کہ ساتویں ویج بورڈ پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کے اگلےماہ اسلام آباد میں صحافی اور اخباری کارکن پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔

بلوچستان میں اخبار مالکان صحافیوں اور اخباری کارکنوں کو انتہائی کم معاوضے دے رہے ہیں۔ شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ بلوچستان میں پچپن روزنامے نکلتے ہیں اور یہاں سالانہ اٹھارہ کروڑ روپے کے اشتہارات جاری کیے جاتے ہیں لیکن صحافیوں اور اخباری کارکنوں کو معاوضے انتہائی کم دیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بعض اخبارات تو پندرہ سو سے تین ہزار روپے تنخواہ رپورٹرز کو دیتے ہیں۔ ان اخبارات میں ملک کے بڑے اخبارات شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد