صحافی پر تشدد کے خلاف بائیکاٹ ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں صحافیوں نے سینیئر صحافی سی آر شمسی پر ایک وفاقی وزیر کے ملازمین کی طرف سے تشدد کے خلاف شروع کیا جانے والا پارلیمان کا بائیکاٹ جمعہ کو ختم کر دیا۔ یہ فیصلہ اجرتوں کے ایوارڈ پر عملدرآمد کی حکومتی یقین دہانی کے بعد عمل میں آیا ہے۔اسلام آباد کے صحافی گزشتہ دو روز سے پارلیمان کے دونوں ایوانوں یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی کی کارروائیوں کا بائیکاٹ کر رہے تھے۔ دو روز قبل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ ( پی ایف یو جے) کے نمائندے اور سینئیر صحافی سی آر شمسی کو وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت غلام سرور خان کے محافظوں کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سی آر شمسی منگل کی شام کو پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ نمبر ایک پر وفاقی وزیرِ محنت اور افرادی قوت سے صحافیوں کی اجرتوں سے متعلق سپریم کورٹ کے جج کی جانب سے دیئے گئے ’ویج ایوارڈ‘ پر اخباری مالکان کی طرف سے عملدرآمد نہ کرنے کے مسئلہ پر بات کرنا چاہتے تھے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اور سی آر شمسی کے درمیان تلخی ہو گئی اور اس کے بعد وفاقی وزیر کے محافظ اور ڈرائیور نے مبینہ طور پر سی آر شمسی پر حملہ کر دیاـ جس سے نہ صرف سی آر شمسی شدید مضروب ہو گئے بلکہ ہاتھا پائی میں ایک دوسرے شخص کی انگلیاں بھی ٹوٹ گئیں۔
ابتداء میں صحافیوں کا مطالبہ تھا کہ اس واقعے کی میڈیکل رپورٹ جاری کی جائے اور وفاقی وزیر اور ان کے ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ لیکن بعد میں حکومت سے اس تنازع کے حل کے لیئے ہونے والے مذاکرات میں صحافیوں نے ساتویں ویج بورڈ ایوارڈ کو بھی مطالبات میں شامل کر لیا۔ صحافیوں کے مطابق یہ فیصلہ ذاتی مفاد کی جگہ اجتماعی مفاد کو ترجحی دینے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی اور وزیر محنت غلام سرور جمعے کی صبح پریس گیلری آئے اور صحافیوں کو عید سے قبل ویج بورڈ ایوارڈ کے نفاذ کے لیئے لائحہ عمل تیار کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقعہ پر غلام سرور خان نے صحافی پر تشدد کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس موقعہ پر سی آر شمسی نے کہا کہ وہ وزیر کو معاف کرتے ہیں۔ ’میرے دوسرے کان کا پردہ بھی پھاڑ دیں لیکن صحافیوں کی حالت پر رحم ضرور کھائیں۔ ہمارا مسئلہ کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ ملکی قوانین کا نفاذ ہے۔‘ اس کے بعد صحافیوں نے دو روز سے جاری پارلیمان کا بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس بائیکاٹ کے دوران صحافی اجلاس کی خبریں دیتے رہے تاہم پریس گیلری میں نہیں بیٹھے۔ جعمرات کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی اس واقعے پر علامتی واک آوٹ کیا۔ اس موقع پر سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف رضا ربانی کا کہنا تھا کہ حکومت ایک جانب تو دہشت گردی کے خاتمے کی بات کرتی ہے لیکن خود اسمبلی کی عمارت کے احاطے میں دہشت گردی کرتی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ یاد رہے ہے کہ موجودہ کابینہ کے ارکان کا ذاتی طور پر عام لوگوں، صحافیوں یا سرکاری افسروں کے ساتھ ذاتی طور پر جھگڑے میں ملوث ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ | اسی بارے میں تشدد: اپوزیشن کا واک آؤٹ14 September, 2006 | پاکستان وقت سے پہلے موت؟18 August, 2006 | پاکستان ’انکوائری کمیشن غیر قانونی ہے‘19 July, 2006 | پاکستان صحافی کی بازیابی کے لیئے احتجاج26 July, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے بچوں کی امداد کا اعلان18 July, 2006 | پاکستان صحافی قتل، حادثہ میں 10 ہلاک 15 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||