وقت سے پہلے موت؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا میں کوئی کام، کوئی پیشہ، کوئی ذمہ داری بھی آسان نہیں۔ کبھی تجربہ تو نہیں ہوا تاہم شاید طویل وقت تک فارغ بیٹھنا بھی کوئی آسان مصروفیت نہ ہوگی۔ ہر پیشے کے اپنے فائدے اپنے نقصانات ہیں۔ کہا جاتا ہے پولیس کی نوکری میں عزت نہیں، درس و تدریس میں پیسہ نہیں، سرکاری نوکری میں کام نہیں، ڈاکٹری میں آرام نہیں، وکالت میں سچ نہیں اور کاروبار میں برکت نہیں۔کئی لوگ شاید اس سے اتفاق نہ کریں لیکن ایک پیشہ ایسا بھی ہے جس میں یہ سب کچھ نہیں۔ پاکستان میں صحافت کے اندر کا حال کچھ یہی ہے۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس سے منسلک لوگوں کا مانا ہے کہ یہ ایک انتہائی مشکل پیشہ ہے۔ ماسوائے چند صحافیوں کے جن کے لیئے اس میں سب کچھ ہے اکثریت کے لیئے اس میں کچھ بھی نہیں۔ نہ اس میں پیسہ ہے، نہ متعین وقت اور نہ آرام۔ جہاں تک صحافی کی عزت کا تعلق ہے تو اس کے برے دن بھی اگر پہلے سے آئے نہیں تو زیادہ دور بھی نہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود میں تو جیسے تیسے ’بائی چانس‘ اس پیشے میں آگیا لیکن نوجوانوں کی روزانہ نئی فوج کو اس جانب آتے دیکھ کر خوف آتا ہے۔ انہیں اس جانب کیا کھینچ رہا ہے؟ شاید گلیمر ورنہ اس میں جو طویل ابتدائی ’رگڑا‘ ملتا ہے شاید ہی کسی اور شعبے میں ہو۔ ہر وقت کی ٹینشن، ہر وقت کا جھنجھٹ۔ صبح سے شام تک یہی کچھ۔ صبح کے اخبار دیکھو خبر لگی کہ نہیں، کیا سلوک کیا ڈیسک نے۔ اخبار بینی کے بعد نئے دن، نئی خبر کی تلاش۔ اس بات کا دباؤ کہ آج کیا فائل کریں گے۔ پھر خبر ہاتھ آئی تو اس کی تصدیق کی بھاگ دوڑ، اس سے فارغ ہوئے تو ڈیڈلائن سر پر۔ بس یہی روزانہ کی چِخ چِخ۔ اس کے علاوہ معاشرتی ناانصافیاں، ناہمواریاں اور سیاسی حماقتیں صحافیوں کا خون کھولالتی رہتی ہیں۔ جہاں دو مل بیٹھے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا رونا رونا شروع کر دیا۔ گھنٹوں گزار دیئے اور ایک دفعہ بھی نہیں کئی مرتبہ۔ گھر کے جنجھٹ الگ۔ کئی ماہ تنخواہ نہیں (جوکہ آج بھی افسوس ہے کہ اکثر صحافیوں کو وقت پر نہیں ملتی) تو گھریلو زندگی بھی تلخ۔ کرایہ کیسے دیا جائے، فیس کیسے ادا ہو؟ اوپر سے چائے، سیگریٹ روز بہ روز مہنگی۔ سونے پر سہاگہ ان پر خبروں کے سلسلے میں بھی دباؤ ہے۔ کہیں غیرارادی طور پر خبر کا بیلنس خراب نہ ہو جائے۔ یہ خوف ہمیشہ ساتھ رہتا ہے کہ کہیں کسی خبر سے حکومت یا کسی اور کی دم پر پاؤں آنے سے کوئی مسئلہ نہ اٹھ کھڑا ہو۔ شاید اسی وجہ سے اپنی صحافتی زندگی کے دوران کئی ساتھیوں کو اپنی عمر کے ’پرائم‘ حصے میں ہتھیار ڈالتے دیکھا ہے۔ یہ شکست وہ کسی حکومت، تنظیم یا کسی شخص کے ہاتھوں نہیں کھاتے بلکہ قدرت سے ہار جاتے ہیں۔ چالیس پچاس کے پھیر میں ہی چپکے سے نکل لیتے ہیں۔
پشاور کے فوٹوگرافر زبیر میر، راولپنڈی کے سینئر سب ایڈیر عبدالباسط، جنگ کوئٹہ کے اکرام، نوشہرہ کے پیر سکندر شاہ ۔۔۔ فہرست کافی لمبی ہے۔ آج اس اتنی لمبی تمہید پر مجبور کیا پشاور میں اپنے ایک اور سینئر صحافی کی موت نے۔ منصور احمد زندگی کی صرف باون بہاریں ہی دیکھ سکے۔ شادی بھی انہوں نے گزشتہ برس کی تھی۔ جعمرات کی صبح اپنے گھر میں پودوں کی دیکھ بھال کے دوران ان کے دل نے اچانک ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ منصور احمد کا پچیس تیس برس کا صحافتی تجربہ تھا۔ وہ ان چند صحافیوں میں سے تھے جنہوں نے اخبار کے ہر اہم بنیادی عہدے پر کام کیا لیکن مدیر کی کرسی سے آگے نہ جاسکے حالانکہ اس کی وجہ ان کے تجربے میں کوئی کمی یا کمزوری نہیں تھی بلکہ ان کا ’انقلابی‘ رویہ تھا، ان کی سوچ تھی۔ وہ ایک اصول پسند شخصیت تھے۔ انہوں نے صحافتی پیشے کا آغاز پشاور کے روزنامہ مشرق سے کیا لیکن میرے ساتھ جان پہچان اس وقت بنی جب وہ نجی خبررساں ایجنسی پی پی آئی کے بیورو چیف تھے۔ غصے میں ایک مرتبہ صحافت کو خیرباد بھی کہا لیکن بعد میں زندگی کے آخری ایام میں وہ قبائلی علاقوں کے سکریٹریٹ کے میڈیا سیل سے منسلک ہوگئے۔ منصور بھی میرے لیئے ان صحافیوں کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں جو قبل از وقت اس دنیا سے منہ موڑ گئے۔ صحافی اگر حیات اللہ کی موت نہیں مرتا تو اسے قدرت اس طرح اپنے شکنجے میں جلد کس لیتی ہے۔ | اسی بارے میں کوئٹہ پریس کلب پر پولیس کا گھیرا؟16 July, 2006 | پاکستان حیات اللہ کے بچوں کی امداد کا اعلان18 July, 2006 | پاکستان اسمبلی، شراب، ’جُغادری لکھاری‘09 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||