اسمبلی، شراب، ’جُغادری لکھاری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ زیریں قومی اسمبلی میں بدھ کے روز جہاں وزراء اور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات کا چرچہ رہا وہاں ایک شراب خانے اور صحافیوں کو لفافے ملنے کے الزامات کا ذکر بھی بڑے زور شور سے ہوتا رہا۔ حکمران مسلم لیگ کے اقلیتی رکن ایم پی بھنڈارا نے چند روز قبل کہا تھا کہ تین سو بیالیس اراکین پر مشتمل قومی اسمبلی کے ہر رکن پر سالانہ ایک کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں جبکہ ایوان کی کارکردگی اس کی نسبت کم ہے۔ ان کی فراہم کردہ معلومات کی بنا پر بعض کالم نگاروں نے خاصی تنقید کی۔ ایسی صورتحال کے بعد سپیکر کی ہدایت پر پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے بدھ کے روز وزراء اور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات کے بارے میں تفصیلات پیش کیں اور بتایا کہ ایم پی بھنڈارا کا دعویٰ غلط ہے۔ پارلیمانی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ ہر رکن قومی اسمبلی کو ماہانہ 48,630 روپے جبکہ پارلیمانی سیکریٹری اور قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کو 61,338 روپے ملتے ہیں۔ جبکہ ہر پارلیمانی سیکریٹری، چیئرمین قائمہ کمیٹی اور رکن اسمبلی کو سالانہ 150,000 روپے کے سفری واؤچر یا 90,000 روپے نقد اور پندرہ ٹکٹ بھی ملتے ہیں۔ انہوں نے ایوان کو مطلع کیا کہ وفاقی وزیر کو ایک 141,000 روپے اور وزیر مملکت کو 118,000 ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ پارلیمانی وزیر نے بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اسمبلی کے ہر اجلاس سے دو روز پہلے اور اختتام کے دو روز بعد تک ہر رکن اسمبلی کو آنے جانے کا کرایہ اور پینتیس روپے یومیہ ادا کیئے جاتے ہیں۔ جبکہ ان کے بقول قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صورت میں دو روز پہلے اور دو روز بعد تک یومیہ پینتیس سو روپے فی رکن کو ادا کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے بتایا کہ ہر سال ایک سو تیس روز تک اجلاس چلانا لازمی ہوتا ہے لیکن اکثر اس سے زیادہ ہی اجلاس چلتا ہے۔ جبکہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس بھی تواتر سے ہوتے ہیں۔ قبل ازیں قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے جہاں ایم پی بھنڈارا کو تنقید کا نشانہ بنایا وہاں وزراء اور اراکین اسمبلی کی بھاری تنخواہوں کے بارے میں لکھنے والے صحافیوں کو بھی ’جُغادری لکھاری‘ قرار دیا اور کہا کہ کئی صحافیوں کی تنخواہیں اراکین سے زیادہ ہیں اور وہ لفافے ( پیسے) بھی لیتے ہیں۔ وزیر کے اس بیان پر پریس گیلری سے صحافیوں نے احتجاجی طور پر واک آؤٹ کیا اور جب انہیں منانے کے لیے ایک وزیر کامل علی آغا آئے تو صحافیوں نے کہا کہ شیر افگن نیازی ان صحافیوں کے نام لیں جو لفافے لیتے ہیں اور تمام صحافیوں کے خلاف الفاظ واپس لیں اور معذرت بھی کریں۔ صحافیوں کے اس مطالبے کے بعد کامل علی آغا نے شیر افگن نیازی سے بات کی اور انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ اردو روزنامہ جنگ کے سینئر کالم نگار ارشاد حقانی کی طرف ہے جو ان کے بقول غلط معلومات پر مبنی کالم لکھ کر زرد صحافت کر رہے ہیں اور جمہوریت کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ ان کی وضاحت کے بعد صحافیوں نے واک آؤٹ ختم کردیا۔ سپیکر چودھری امیر حسین اور پارلیمانی امور کے وزیر سمیت حکومت اور حزب مخالف کے بعض اراکین اسمبلی نے اپنی تنخواہوں اور مراعات کا بھرپور دفاع کیا اور ایم پی بھنڈارا پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ انہوں نے اراکین کی مالی مراعات کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی ہیں۔ اُس دوران متحدہ مجلس کے سرکردہ رہنما حافظ حسین احمد نے متعلقہ کالم نگار کے بارے میں پارلیمانی امور کے وزیر کے الفاظ کارروائی سے حذف کرنے کا مطالبہ کیا لیکن سپیکر نے اُسے مسترد کردیا۔ حافظ حسین احمد نے ایم پی بھنڈارا پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ وہ شراب خانہ چلاتے ہیں جو انہیں بند کرنا چاہیے۔ اس دوران مسلم لیگ نواز کے ایک رکن نے سوال اٹھایا کہ کیا شراب کا کاروبار کرنے والا شخص ایوان کا رکن بن سکتا ہے؟ جس پر کسی نے جواب نہیں دیا۔ جب ایم پی بھنڈارا نے فی رکن اسمبلی پر سالانہ ایک کروڑ روپے کے اخراجات کی وضاحت کرنا چاہی تو سپیکر نے انہیں سختی سے منع کردیا۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی میں جہاں اراکین اسمبلی کی موجودہ مراعات کا ذکر رہا وہاں ایوان کی خصوصی کمیٹی نے اراکین اسمبلی کو اسلام آباد اور اپنے حلقوں میں دفاتر، تین تین ملازم، خصوصی سیکیورٹی، سابق اراکین کو طبی سہولت اور سرکاری رہائش گاہوں میں رہنے کا اختیار دینے کی سفارشات پر مبنی رپورٹ بھی پیش کی۔ | اسی بارے میں اسمبلی: ارکان کے درمیان ہاتھا پائی 08 December, 2005 | پاکستان صحافی کا اغوا، پریس کا احتجاج06 December, 2005 | پاکستان ’جیتا وہی ہے جو پیسے والا ہے‘07 October, 2005 | پاکستان ’میں تھک گیا‘ ، کارروائی ملتوی20 September, 2005 | پاکستان قابلِ اعتراض فقرات،ایوان میں ہنگامہ08 August, 2006 | پاکستان ساتواں ویج ایوارڈ: صحافیوں کا احتجاج04 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||