BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 October, 2005, 16:31 GMT 21:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ساتواں ویج ایوارڈ: صحافیوں کا احتجاج

صحافیوں کا احتجاج
کچھ صحافیوں نے قمیضیں اتار کر گلے میں روٹیاں لٹکا رکھی تھیں
پاکستان میں صحافیوں نے نئی اجرتوں کا تعین کرنے والے ’ساتویں ویج ایوارڈ‘ پر اخبارات کے مالکان کی جانب سے عمل درآمد نہ کرنے کے خلاف منگل کو اسلام آباد اور کراچی میں بھرپور احتجاج کیا۔

اسلام آباد میں صحافیوں نے جلوس نکالا اور پارلیمینٹ کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور ان کا جلوس ایک جلسے کی شکل اختیار کر گیا۔ صحافیوں نے حکومت اور اخباری مالکان کے خلاف نعرے لگائے جبکہ کچھ صحافیوں نے قمیضیں اتار کر گلے میں روٹیاں لٹکا رکھی تھیں اور اٹھا بھی رکھی تھیں۔

وزارت داخلہ اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارتوں کے دو وزراء مملکت شہزاد وسیم اور طارق عظیم نے اس موقع پر صحافیوں کے مطالبات کی حمایت کی اور چھ اکتوبر کو وزیراعظم سے ملاقات کروا کر مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔

طارق عظیم نے اخباری مالکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئے دن ٹی وی چینل کھول رہے ہیں لیکن کارکنوں کو تنخواہیں بھی نہیں دیتے جو کہ ظلم ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں نے جلوس نکالا اور پارلیمینٹ کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئے

منگل کو اسلام آباد کے صحافیوں نے میلوڈی میں پریس کلب کے کیمپ آفس سے جلوس نکالا۔ وہ وزیراعظم کی رہائش گاہ تک جانا چاہتے تھے۔ لیکن پولیس نے پارلیمینٹ کے سامنے خاردار تاریں بچھا کر رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں روک دیا۔

اس پر صحافیوں نے دھرنا دیا اور اہم شاہراہ کی ٹریفک ایک گھنٹے سے بھی زیادہ دیر معطل رہی۔ صحافیوں نے رکاوٹیں توڑ کر آگے جانے کی کوشش کی لیکن وزراء نے ان سے درخواست کی کہ وہ وزیراعظم سے ملاقات کے نتائج تک انتہائی قدم نہ اٹھائیں۔ جس پر صحافیوں نے ان کی بات مان لی۔

تاہم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر پرویز شوکت، مرکزی رہنما سی آر شمسی اور اسلام آباد کی تنظیم کے صدر کمال اظفر نے اعلان کیا کہ اگر وزیراعظم سے ملاقات میں مسائل حل نہیں ہوئے تو وہ سات اکتوبر سے پھر احتجاج کریں گے۔

پولیس نے پارلیمینٹ کے سامنے خاردار تاریں بچھا کر صحافیوں کو آگے جانے سے روک دیا

ساتویں ویج ایوارڈ کے اجراء کو پانچ برس پورے ہونے اور اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف پاکستان کے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر صحافیوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم ’انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس، کے صدر کرسٹوفر وارین نے جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں قائم پاکستانی سفارتخانوں اور اخباری مالکان کی تنظیم کے رہنماؤں کو احتجاجی خط لکھے ہیں۔

اس تنظیم کے صدر کا کہنا ہے کہ دنیا کے ایک سو دس ممالک کے پانچ لاکھ صحافی ان کی تنظیم سے وابسطہ ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے لیے ضروری ہے کہ صحافیوں کو بہتر معاوضہ دیا جائے۔

ساتویں ویج ایوارڈ کی پانچ سالہ مدت چار اکتوبر کو پوری ہوچکی ہے لیکن نہ اس پر حکومت نے عمل کروایا اور نہ اخباری مالکان نے اس پر عمل کیا۔ قانون کے مطابق اب آٹھویں ویج ایوارڈ کی تشکیل واجب ہوگئی ہے۔

قانون کے مطابق حکومت سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کرتی ہے جو صحافیوں اور اخباری مالکان کی تنظیموں کی مشاورت اور مہنگائی کی شرح کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہر پانچ برس کے لیے اجرتوں کا تعین کرتی ہے۔

پانچ برس قبل جب ساتواں ویج ایوارڈ دیا گیا تو اخباری مالکان نے کہا کہ غیر صحافی ملازمین کو ویج ایوارڈ سے علیحدہ کرنے کی صورت میں وہ اس پر عمل کریں گے۔ اس صورتحال کے بعد پاکستان کے پارلیمان کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں نے ویج ایوارڈ پر عمل کرنے کے حق میں قرار دادیں بھی منظور کیں۔

لیکن اخباری مالکان نے معاملہ اعلیٰ عدالتوں میں اٹھایا۔ سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنی لیکن تاحال مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔

صحافیوں کا احتجاج
صحافیوں کی تنظیموں کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ ایک نجی ٹی وی چینل سے بیس کے قریب صحافیوں کو ملازمت سے نکالا گیا ہے

منگل کی سہ پہر مظاہرے سے خطاب کے دوران صحافیوں کی تنظیموں کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ ایک نجی ٹی وی چینل سے بیس کے قریب صحافیوں کو ملازمت سے نکالا گیا ہے اور ایک بڑے اخباری گروپ نے اسی صحافیوں کو پہلے ہی شوکاز نوٹس دے رکھے ہیں اور کئی صحافیوں سے ’بیٹس‘ چھین لی گئی ہیں۔

منگل کی شام کو کراچی میں بھی صحافیوں نے پریس کلب میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔ تاہم بھارتی وزیر خارجہ کے دورے کی وجہ سے انہوں نے وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ تک جلوس نہیں نکالا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد