وزیرستان امن معاہدہ،جائزہ کاحکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے قبائلی علاقوں میں قیام امن کے لیئے قائم جرگہ کے اراکین کو شمالی وزیرستان جا کر امن معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ یہ ہدایت گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی نے پشاور میں پینتالیس رکنی جرگے سے ایک ملاقات میں دی۔ گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی نے پشاور میں سنیچر کوتیسرے روز بھی قبائلی علاقے وزیرستان پر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں اس تیزی کی کوئی خاص وجہ نہیں تاہم گورنر سرحد حج کے لیئے روانگی سے قبل یہ عمل مکمل کرنا چاہ رہے تھے۔ شمالی وزیرستان میں حکومت اور مقامی عسکریت پسندوں کے درمیان ستمبر میں امن معاہدہ کروانے والے پینتالیس رکنی جرگے نے گورنر ہاؤ س پشاور میں گورنر سے ملاقات کی۔ سرکاری طور پر جاری کیے جانے والے مختصر بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں شمالی وزیرستان میں موجودہ حالات اور امن معاہدے کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ معمول کی ایک ملاقات تھی۔ ایک سرکاری اہلکار کے بقول معاہدے کے وقت یہ طے پایا تھا کہ اس پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیئے ہر تین ماہ بعد اجلاس ہوا کرے گا لہذا یہ اس سلسلے کی پہلی ملاقات تھی۔ تاہم سرکاری بیان کے مطابق گورنر نے جرگے کو شمالی وزیرستان کا دورہ کرنے اور صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے اور امن معاہدے کی راہ میں حائل رکاٹوں کو دور کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں مغربی اور امریکی اہلکاروں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے شمالی وزیرستان کے امن معاہدے کے بارے میں شکوک و شبہات کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔ اس سے بظاہر حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ | اسی بارے میں اورکزئی ایجنسی، جرگہ ناکام 08 October, 2006 | پاکستان گرینڈ جرگہ، حکومت کی ہوش مندی06 September, 2006 | پاکستان جرگے کی ’طالبان‘ سے دوسری ملاقات30 July, 2006 | پاکستان وزیرستان: جرگے کو درپیش مسائل20 July, 2006 | پاکستان مصالحتی جرگے کی تشکیل16 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||