’فوجی سربراہ کے عہدے پر سیاسی رنگ چڑھ گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے کچھ ریٹائرڈ جرنیلوں، ادیبوں، کالم نگاروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ٹیکنوکریٹس نے صدر جنرل پرویز مشرف کو بھیجے گئے ایک خط میں وردی اتارنے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذیل میں اس خط کے متن کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ جناب صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان، وزیرِاعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان، پارلیمان کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے رہنما، السلام علیکم! ہم اپنی ذاتی حیثیت میں گزشتہ ایک برس سے سول سوسائٹی فورم کےتحت پاکستان کو درپیش اہم مسائل خصوصاً ملک میں جمہوری نظام اور اداروں کے استحکام اور سیاسی عمل سے فوج کی علیحدگی پر بات چیت کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ متعدد وجوہات کی بناء پر آج پاکستانی ریاست اور معاشرے کو اندرونی استحکام اور ہم آہنگی کے حوالے سنجیدہ مشکلات کا سامنا ہے۔ منتخب شدہ قانون ساز اداروں کی موجودگی اور آئندہ انتخابات کے انعقاد کے امکانات کے باوجود اس اعتماد اور ساکھ کی کمی پائی جاتی ہے جو سیاسی یگانگت کا مظہر ہو۔ بڑھتے ہوئے متضاد رجحانات بھی اخراجیت اور غالبیت جیسی خطرناک قوتوں کے عکاس ہیں۔ اگرچہ عوام اپنی روزمرہ مصروفیات اور اہم معاملات میں مصروف ہیں لیکن پھر بھی پوری قوم کی دلی خواہش ہے کہ مخاصمت کی بجائے مفاہمت کا راستہ اپنایا جائے۔ اس کا دارومدار تمام اداروں اور تنظیموں کے رہنماؤں خصوصاً عوام کے منتخب شدہ نمائندوں اور سرکاری عہدیداران پر ہے۔ وہ اہم معاملات جن پر مذاکرات، مفاہمت اور ہم آہنگی درکار ہے درج ذیل ہیں۔ 1۔ سنہ 2007 کے انتخابات اس وقت تک معتبر تصور نہیں کیئے جائیں گے جب تک ان کا انعقاد وفاق اور صوبوں میں غیر جانبدار نگران حکومتوں کے تحت نہیں ہوتا۔
2۔چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو حقیقتاً ایسے اختیارات دیئے جانے ضروری ہیں جس کے نتیجے میں ایسےانتخابات کا انعقاد ممکن ہو جنہیں صرف شفاف کہا نہ جائے بلکہ وہ عوام کی نظر میں بھی شفاف، آزاد اور غیر جانبدارانہ ہوں۔ اس مقصد کے لیئےضروری ہے کہ 2007 کے انتخابات کے دوران ضلعی انتظامیہ کو چیف الیکشن کمشنر کے مؤثر کنٹرول میں دے دیا جائے۔ 3۔ آئینی حیثیت کے علاوہ صدرِ پاکستان کا عہدہ ایک سیاسی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ صدارت اور فوج کی سربراہی کے ملاپ سے نہ صرف فوج کے سربراہ کے عہدے نے سیاسی رنگ اختیار کیا ہے بلکہ اس کا اثر فوج پر بھی پڑا ہے۔ 4۔ جمہوریت صرف اسی صورت میں معتبر سمجھی جاتی ہے جب اس میں حقیقی طور پر اختیارات کی تقسیم ہو اور تمام حکومتی ادارے ان قوانین کی پاسداری کریں جو آئین کے تحت ان پر لاگو ہوتے ہیں۔ 5۔حقیقی وفاقیت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ریاست میں سیاسی، معاشی اور انتظامی عدم ارتکازِ اختیارات ہو۔ 6۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھیں اور یہ عزم کریں کہ وہ ملک میں جمہوری اقدار، جمہوری اداروں کو مضبوط کریں گے اور تمام سطحوں پر قانون کے نفاذ اور’گڈ گورننس‘ کو قابلِ عمل بنائیں گے۔ ان عظیم مقاصد کے حصول کی خاطر سیاسی جماعتوں کو ہر صورت میں تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کے لیئے مذاکرات کی کسی بھی پیشکش کا مثبت جواب دینا چاہیئے۔ ایک مکمل اور معتبر جمہوریت تک پرامن، درجہ بدرجہ منتقلی کے لیئے ضروری ہے کہ کلیدی اداروں اور تنظیموں کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت ہو۔ ہماری سب سے اپیل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی، دھمکیوں اور انتہائی اقدام سے گریز کریں۔ پاکستان کی تاریخ میں اس وقت قوم کو ایک بہتر، ہم آہنگ مستقبل کے لیئے وسیع القلبی اور دور رس نظر درکار ہے۔ آپ کی توجہ کا شکریہ۔ نیک خواہشات کے طالب، لیفٹیننٹ جنرل(ر)عبدالقادر (سابق گورنر بلوچستان) | اسی بارے میں ڈیڈ لائن 31 جولائی ورنہ عدم اعتماد02 July, 2006 | پاکستان ’مشرف وردی میں منتخب ہونگے‘13 June, 2006 | پاکستان امریکہ کا پالتو نہیں ہوں: مشرف28 April, 2006 | پاکستان ’پاک جمہوریت امریکی ایجنڈے پر‘06 April, 2006 | پاکستان ’فوج عوامی حکومت کی تابع‘ 05 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||