BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 July, 2006, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جرنیلوں کا مشورہ غیر اہم ہے‘

 جنرل مشرف
سابق جرنیلوں نےصدر مشرف کو سیاستدانوں سے بات چیت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
پاکستان میں سیاست سے فوج کا کردار ختم کرنے کے بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف کو ان کے ساتھی جرنیلوں سمیت بعض دانشوروں، صحافیوں اور سیاستدانوں کی جانب سے لکھے گئے خط کے متعلق وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ ’خط اچھا ہے لیکن غیر اہم ہے کیونکہ اس میں متفرق باتیں ہیں‘۔منگل کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سات ریٹائرڈ جرنیلوں سمیت جن افراد نے یہ خط لکھا ہے وہ ان کی ذاتی رائے ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف کے باوردی صدر رہنے سمیت تمام اقدامات دستور کے عین مطابق ہیں۔

صدر، وزیراعظم، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو چند روز قبل بھیجے گئے خط میں مختلف الخیال افراد نے سفارش کی تھی کہ ملک میں پائی جانے والی سیاسی افراتفری ختم کرنے کے لیے فریقین بات چیت شروع کریں اور مصالحت پیدا کریں۔

خط لکھنے والوں میں بلوچستان کے سابق گورنر جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقادر بلوچ، سابق وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل( ر) معین الدین حیدر، ملک میں نیا بلدیاتی نظام متعارف کرانے والے لیفٹیننٹ(ر) جنرل تنویر نقوی، انٹیلی جنس ایجنسی ’آئی ایس آئی کے دو سابق سربراہ اسد درانی اور حمید گل، دفاعی امور کے ماہر لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود، مشرف دور کے پہلے وزیر اطلاعات جاوید جبار، وزیر قانون شاہد حامد، برگیڈیر( ر) شوکت قادر، سرتاج عزیز، حکومتی پارٹی سے تعلق والے سینیٹر ایس ایم ظفر، صحافی مجیب الرحمٰن شامی، ڈاکٹر حسن عسکری رضوی، ڈاکٹر پرویز حسن، شاہ محمود قریشی اور احمد بلال شامل ہیں۔

جنرل اسد درانی اور وزیر اطلاعات محمد علی درانی
جنرل ریٹائرڈ اسد علی درانی خط لکھنے والوں میں شامل ہیں۔

خط لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ ڈیڑھ سال کی مشاورت کے بعد ایک متن پر متفق ہوئے۔

محمد علی درانی نے کہا کہ پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق ہے۔ تاہم انہوں نے خط میں حکومت سے زیادہ حزب مخالف پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔

اس خط کا حزب مخالف کی بیشتر جماعتیں خیر مقدم کر چکی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوج کا سیاسی کردار ختم کریں۔

خط کے بارے میں جہاں سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے اخبارات میں اس کے بارے میں اداریے تحریر کیےجا رہے ہیں جبکہ کچھ کالم نگاروں نے بھی اس خط کا ذکر اپنے کالموں میں کیا ہے۔

’صدر کو یاد دہانی، کے عنوان سے ڈان نے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ اس خط میں کوئی نئی بات تو نہیں اور پہلے سے واضح معاملات پر بات کی گئی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ اپیل کرنے والوں میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو کل تک اِسی اسٹیبلشمینٹ کا حصہ تھے اور فوجی و سول آمیزش میں ان کی مدد کرتے رہے۔

اس خط کا بینظیر بھٹو کی جانب سے خیر مقدم کرنے اور یہ کہنے کہ ’وہ بھی ان ہی معاملات پر ویسے ہی سوچ رہی تھیں، کا ذکر کرتے ہوئے ڈیلی ٹائمز نے اپنے اداریے میں سوال اٹھایا ہے کہ بینظیر نے ایسے کیوں کہا؟

اس اخبار نے مزید لکھا ہے کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سمجھوتے کی آس میں ہیں اور یوں مشترکہ حزب مخالف کی تحریک کا زور کم کر رہی ہیں

اسی بارے میں
قاضی حسین کی مشرف کو دھمکی
23 November, 2004 | پاکستان
’اماں جی‘ نصابی کتابوں میں
30 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد