BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان میں فوج کے خلاف قرار داد

قرار داد وزیر اعلی کی عدم موجودگی میں منظور کی گئی
بلوچستان اسمبلی نے آج کوئٹہ کے مضافات میں فوج اور پاک فضائیہ کی جانب سے مبینہ طور پر زمینوں پر قبضے کے خلاف قرار داد منظور کی ہے ۔

یہ قرار داد مخلوط حکومت میں شامل متحدہ مجلس عمل کے صوبائی وزیر بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی عبدالرحیم بازئی نے پیش کی ہے جس کی حمایت حزب اختلاف کے تمام اراکین نے کی ہے۔

حکمران مسلم لیگ کے وزارء اور وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف سوموار کو گوادر میں تھے اس لیے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔ عبدالرحیم بازئی نے بی بی سی کو بتایا کہ اغبرگ کے علاقے میں فوج اور پاک فضائیہ کے حکام بازئی قبیلے کی ہزاروں ایکڑ اراضی پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے امن و امان کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ قبائلیوں کی زمینوں پر قبضہ کرے ۔

 سپیکر بلوچستان اسمبلی جمال شاہ کاکڑنے چاہا کہ اس پر کمیٹی قائم کی جائے لیکن حزب اختلاف اور مجلس عمل کے موجود وزراء نے قرار داد کی بھر پور حمایت کی جسے منظور کر لیا گیا ہے۔

عبدالرحیم بازئی نے کہا کہ قبائلیوں سے مذاکرات کیئے جائیں تو اس کا حل نکل سکتا ہے اور اگر فوج یا پاک فضائیہ کو زمین ضرورت ہے تو قبائل ارزاں نرخ پر زمین فروخت کرنے کے لیے سوچ سکتے ہیں۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایئر فورس کی جانب سے تین صدیوں سے قبیلہ بازئی کی جد امجد کی ملکیت اراضیات واقع علاقہ اغبرگ تحصیل و ضلع کوئٹہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی طرح سرہ غڑگئی چشمہ اچوزئی ہنہ، اوڑک مشرقی اور مغربی بائی پاس کی زمینوں پر فوج نہ صرف قبضہ کرنےکی کوشش میں مصروف عمل ہے بلکہ اس سلسلہ میں بلا جواز بغیر کسی نوٹس ان اراضیات کے مالک زمینداروں کو گرفتار بھی کیا جا رہا ہے جس نے یہاں کی عوام اور خاص طور پر بازئی قبیلے کو ناقابل تلافی نقصانات کے علاوہ ذہنی کرب اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ لہذا ایئر فورس اور فوجی انتظامیہ کو قبضہ گردی ایسے غیر قانونی غیر اخلاقی اور اسلام کے منافی اقدامات سے روکا جائے۔

سپیکر بلوچستان اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے چاہا کہ اس پر کمیٹی قائم کی جائے لیکن حزب اختلاف اور مجلس عمل کے موجود وزراء نے قرار داد کی بھر پور حمایت کی جسے منظور کر لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ سوموار کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے بلوچستان یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباء نے وائس چانسلر کے رویئے کیمپس میں پولیس چوکیاں قائم کرنے اور یونیورسٹی ماڈل آرڈیننس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔

بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے وضاحتی بیان میں وائس چانسلر کے رویے کی مذمت کی ہے اور کہا کہ ایک ایف اے پاس ریٹائرڈ فوجی کو پی ایچ ڈی اساتذہ پر متعین کردیا گیا ہے اُس کا سینیئر اساتذہ کے ساتھ بھی رویہ صحیح نہیں ہے اور اس کا ثبوت لاء کالج کے پرنسپل کا اپنے عہدے سے استعفی ہے۔

قومی اسمبلیپلاٹوں پر اجتجاج
وزیراعظم نے افسروں کو پلاٹ کیوں دیے؟
آرمی ویلفئیر ٹرسٹ محلات اور قومی مفاد
دفاعی اور قومی مفاد میں لی گئی زمین کا کیا ہوا!
گوادر الاٹمنٹ
کورٹ سے منسوخی کا خیرمقدم: بلوچ قومپرست
اسی بارے میں
چھاؤنیوں کی زمین کس کی؟
25 February, 2005 | پاکستان
لوگوں کی فوج پر شدید تنقید
11 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد