کاشتکاروں کی 70 سال بعدبے دخلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رحیم یار خان میں ستر سال سے زرعی فارمز کو کاشت کرنے والے ہزاروں کسانوں کو بے دخلی کا سامنا ہے کیونکہ یہ فارمز چند بڑے سیاستدانوں نے خرید لیے ہیں۔ رحیم یار خان کے چکوک، ترانوے پی، پچانوے پی اور اٹھانوے پی میں چار سو خاندانوں کے دس ہزار افراد آباد ہیں۔ یہ لوگ ستر سال سے رابرٹ فارمز کی زرعی زمین کاشت کرتے آرہے ہیں۔ ان چکوک کے رہنے والے عبدالرشید اور دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے بڑی محنت اور پیسے خرچ کرکے اس اراضی کو قابل کاشت بنایا تھا۔ ان چکوک کے رہنے والوں کے مطابق ان زرعی فارمز کےانگریز مالک رابرٹ نے اب یہ زمین مقامی سیاستدانوں تحصیل ناظم رحیم یار خان میاں عامر اعجاز، میاں امتیاز اور پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی کے ہاتھ فروخت کردی ہے۔ رابرٹ فارمز کے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں اب اس زمین سے بےدخلی کا سامنا ہے جو ان کے لیے روزگار کا واحد ذریعہ ہے۔ کاشتکاروں کی طرف سے جاری ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ زمین چھوڑنے کی بجائے موت قبول کرنے کو ترجیح دیں گے۔ |
اسی بارے میں اوکاڑہ: ووٹوں نے فیصلہ کر دیا28 August, 2005 | پاکستان فوج اور کسانوں میں پھر کشیدگی 30 April, 2005 | پاکستان فوج جھک گئی، سڑک کھل گئی05 February, 2005 | پاکستان اوکاڑہ: رپورٹنگ پر صحافی گرفتار 02 August, 2004 | پاکستان اوکاڑہ محاصرہ: مویشی خطرے میں26 July, 2004 | پاکستان ملٹری فارمز: مزارعین کامحاصرہ25 July, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||