BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 April, 2006, 15:29 GMT 20:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کاشتکاروں کی 70 سال بعدبے دخلی

اس سے پہلے اوکاڑا فارمز پر تنازع ہو چکا ہے
اس سے پہلے اوکاڑا فارمز پر تنازع ہو چکا ہے

رحیم یار خان میں ستر سال سے زرعی فارمز کو کاشت کرنے والے ہزاروں کسانوں کو بے دخلی کا سامنا ہے کیونکہ یہ فارمز چند بڑے سیاستدانوں نے خرید لیے ہیں۔

رحیم یار خان کے چکوک، ترانوے پی، پچانوے پی اور اٹھانوے پی میں چار سو خاندانوں کے دس ہزار افراد آباد ہیں۔ یہ لوگ ستر سال سے رابرٹ فارمز کی زرعی زمین کاشت کرتے آرہے ہیں۔

ان چکوک کے رہنے والے عبدالرشید اور دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے بڑی محنت اور پیسے خرچ کرکے اس اراضی کو قابل کاشت بنایا تھا۔

ان چکوک کے رہنے والوں کے مطابق ان زرعی فارمز کےانگریز مالک رابرٹ نے اب یہ زمین مقامی سیاستدانوں تحصیل ناظم رحیم یار خان میاں عامر اعجاز، میاں امتیاز اور پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی کے ہاتھ فروخت کردی ہے۔

رابرٹ فارمز کے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں اب اس زمین سے بےدخلی کا سامنا ہے جو ان کے لیے روزگار کا واحد ذریعہ ہے۔

کاشتکاروں کی طرف سے جاری ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ زمین چھوڑنے کی بجائے موت قبول کرنے کو ترجیح دیں گے۔

پھوکاڑا بیچتفریح گاہ یاموت گھر
پھوکاڑا بیچ خوبصورت مگر خطرناک
صحافی کی گرفتاری صحافی کی گرفتاری
’میرے بابا کو رینجرز اور پولیس نے بہت مارا‘
اسی بارے میں
فوج جھک گئی، سڑک کھل گئی
05 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد