اعلیٰ افسروں کو پلاٹوں پر واک آؤٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے وفاقی حکومت کے اڑتالیس اعلیٰ افسروں کو اسلام آباد میں قیمتی پلاٹ الاٹ کیےجانے کے خلاف واک آوٹ کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر ہاؤسنگ سید صفوان اللہ نے پیپلز پارٹی کے عبدالغنی تالپور کے سوال کے جواب میں بتایا کہ بائیس گریڈ کے جن اڑتالیس افسروں کو اسلام آباد میں پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں ان میں سے انتالیس کو پہلے بھی پلاٹ الاٹ ہوچکے ہیں۔ چھ چھ سو گز کے یہ پلاٹ اسلام آبادکے سیکٹر ڈی ٹو میں الاٹ کیے گئے اور ان کےعوض بائیس گریڈ کے افسروں سے ستائیس لاکھ روپے وصول کیے گئے۔ پیپلز پارٹی کے نئیّر بخاری نے کہا کہ الاٹمنٹ کےوقت وفاقی ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کو ایک حلف نامہ دینا ہوتا جس میں بتایا جاتا ہے کہ الاٹی کو اس سے قبل کوئی پلاٹ الاٹ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ان وفاقی افسروں نے یہ حلف نامہ داخل کرایا تھا۔ وفاقی وزیر ہاؤسنگ نے کہا کہ اس حلف نامے کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب سی ڈی اے اپنے قواعد کے تحت پلاٹ الاٹ کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلاٹ وزیراعظم نے اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت دیے ہیں اس لیے اس قاعدے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آخر کس طرح قوم کے خزانے سے دو دو کروڑکے یہ پلاٹ ان افسروں کو دیے گئے؟ وفاقی وزیر نے کہا کہ خود اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھیں کہ ماضی کے وزرائے اعظم نے کس کس طرح پلاٹ الاٹ کیے تھے۔
اپوزیشن نے اس موقع پر احتجاج کے طور پر ایک ٹوکن واک آؤٹ کا اعلان کیا اور اپوزیشن اراکین شرم کرو، بندربانٹ نہیں چلے گی، حساب دو کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے باہر چلےگئے۔ پلاٹ لینے والے جن افسران کی فہرست ایوان میں پیش کی گئی ان میں سے بیشتر یا تو وفاقی سکریٹری ہیں یا وزیراعظم سکریٹریٹ میں تعینات ہیں۔ پلاٹ حاصل کرنے والوں میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے سکریٹری طارق عزیز، وفاقی وزیر داخلہ سید کمال شاہ، وزیراعظم کے پرنسپل سکریٹری خالد سعید، سکریٹری ہاؤسنگ عبدالرؤف چودھری، چئرمین سی بی آر عبداللہ یوسف، سکریٹری ثقافت سلیم گل شیخ، سکریٹری خارجہ ریاض محمد خان، سکریٹری دفاع طارق وسیم غازی، سکریٹری صحت سید انور محمود، اعجاز رحیم، اسلم سنجرانی، سیدجلیل عباس، جاوید صادق ملک، محسن حفیظ، کامران رسول، شاہد رفیع، ملک آصف حیات، ہمایوں فرشوری اور شکیل درانی بھی شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں غریبوں کے پلاٹ افسران کے نام19 August, 2006 | پاکستان پلاٹوں کے بجائے فائلوں کا دھندہ08 July, 2005 | پاکستان اسلام آباد میں ججوں کو پلاٹ آلاٹ 25 February, 2005 | پاکستان اسلام آباد میں ’صوابدیدی پلاٹ‘27 October, 2004 | پاکستان جنرل مشرف کا زرعی پلاٹ24 July, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||