پلاٹوں کے بجائے فائلوں کا دھندہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں تیس پینتیس پراپرٹی ڈیلروں کا ایک گروہ ہے جو پلاٹوں کی فائلوں کی ایک غیر اعلانیہ ایکسچینج چلا رہا ہے اور اس میں سینکڑوں ارب روپے کا کاروبار اسی طرز پر ہورہا ہے جیسے اسٹاک مارکیٹ میں بدلہ کا کاروبار۔ کراچی میں اسٹاک مارکیٹ میں بدلہ کا کاروبار کرنے والے کئی کاروباری اب لاہور کی پراپرٹی ایکسچینج میں فائلوں کا کاروبار کررہے ہیں۔ لاہور شہر میں اس وقت درجنوں ایسی ہاؤسنگ اسکیمیں پلاٹوں کا کاروبار کررہی ہیں جنہوں نے لوگوں سے سینکڑوں ارب روپے لے کر انہیں پلاٹوں کے الاٹمینٹ لیٹر یا عرف عام میں فائلیں جاری کی ہوئی ہیں لیکن ان کے پاس خریداروں کو دینے کے لیے پوری زمین نہیں ہے اور جو زمین ہے اس پر انہوں نے مقررہ مدت میں ترقیاتی کام مکمل نہیں کیا۔ ان مبینہ رہائشی کالونیوں میں پنجاب رجسٹرار کوآپریٹو کے دائرہ اختیار میں آنے والی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیاں بھی ہیں اور لاہور ترقیاتی ادارے کے دائرہ اختیار میں آنے والی نجی ڈویلپرز کی ہاؤسنگ اسکیمیں بھی۔ ر پراپرٹی ڈیلروں کا یہ گروہ مارکیٹ سے مبینہ پلاٹوں کی فائلیں خریدتا ہے جس سے بعض ہاؤسنگ اسکیموں کی فائلوں کی قیمت مصنوعی طور پر بہت بڑھ جاتی ہے اور عام سرمایہ کار بھی ان میں سرمایہ کاری شروع کردیتا ہے۔ جب ان فائلوں کی قیمتیں چڑھ جاتی ہیں تو پراپرٹی ڈیلروں کا یہ گروہ اپنی خریدی ہوئی فائلیں مارکیٹ میں بیچ دیتا ہے جس سے مارکیٹ گر جاتی ہے اور عام سرمایہ کار کا پیسہ ڈوب جاتا ہے۔ جائیداد کی خرید و فروخت میں الاٹمینٹ فائلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں لیکن ڈیفنس لاہور کا شروع کیا ہوا کاروبار کسی روک ٹوک کے بغیر جاری ہے جس کے بڑے بڑے اشتہار روزانہ اخباروں میں چھپتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق لاہور میں اس وقت کم سے کم تین لاکھ پلاٹوں (ایک کنال اور دس مرلہ) کی فائلیں گردش میں ہیں۔ تاہم منظوری لیے بغیر کینٹ کی حدود میں درجنوں ہاؤسنگ اسکیمیں کھلے عام کام کررہی ہیں اور ان کے بڑے بڑے اشتہارات اخباروں میں شائع ہوتے ہیں۔ ان میں سے کئی سوسائٹیاں سیاستدانوں کی ہیں اور کچھ نے اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں فوج کے ریٹائرڈ جرنیلوں کو شامل کیا ہوا ہے۔ پچھلے تین سال میں ان سوسائٹیوں اور اسکیموں کے پلاٹوں کی قیمت میں پچاس سے ستر لاکھ فی کنال کا اضافہ ہوا ہے۔ پراپرٹی ڈیلروں کے مطابق زیادہ پیسہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ہے جنہوں نے امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد اپنا پیسہ بڑے پیمانے پر ملک میں بھیجنا شروع کیا۔ صوبائی وزیر ہاؤسنگ رضا علی گیلانی کے مطابق قانون کے مطابق کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی اس وقت مجاز اتھارٹی جیسے کینٹونمینٹ بورڈ یا لاہور ترقیاتی ادارہ سے منظور ہوتی ہے جب وہ اپنے کل رقبہ کا کم سے کم اسی فیصد خرید لے اور اپنے پلاٹوں کا تیس فیصد متعلقہ ادارہ کے پاس گروی رکھوائے تاکہ اگر وہ ترقیاتی کام نہ کرسکے تو حکومتی ادارہ یہ ترقیاتی کام کرواسکے۔ دو ہاؤسنگ اسکیمیں جنہوں نے نئے ائرپورٹ ٹرمینل کے سامنے ہونے کی بنا پر اپنے پلاٹوں کی فائلیں مہنگے داموں بیچیں لیکن ان دونوں سوسائٹیوں کے پاس باہر سڑک تک جانے کا راستہ تک نہیں۔ ان دونوں اسکیموں کے ساتھ چھیاسٹھ کینال زمین کینٹونمینٹ بورڈ کی ہے جو ان کو راستہ کے لیے یہ زمین بازار کے نرخ پر چھیاسٹھ کروڑ روپے میں بیچنا چاہتی ہے جبکہ یہ سوسائٹیاں یہ پیسے دینے کے لیے تیار نہیں۔ لاہور شہر کی حدود میں واقع ہاؤسنگ اسکیموں کا بھی یہی حال ہے کہ انہوں نے پلاٹوں کی فائلوں کی شکل میں اتنی زمین کے پیسے لوگوں سے حاصل کر لیے ہیں جتنی زمین ان کے پاس نہیں۔ لاہور ترقیاتی ادارہ (ایل ڈی اے) کے مطابق شہر کی حدود میں تہتر ہاؤسنگ اسکیمیں غیر قانونی طور پر کام کررہی ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک مثال بحریہ ٹاؤن کی ہے جس کا صرف پہلا فیز حکومت سے منظور شدہ ہے لیکن اس نے متعدد فیز کی چالیس ہزار سے زیادہ فائلیں ایک اندازے کے مطابق تقریبا ایک سو ارب روپے کے عوض بیچ دی ہیں جن کے لیے کم سے کم ستر ہزار کنال زمین درکار ہے جو اس سکیم کے ارد گرد میسر نہیں۔ رجسٹرار کواپریٹو کے دفتر کے مطابق لاہور شہر میں ایک سو چون کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیاں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے صرف پینسٹھ میں ترقیاتی کام ہوئے ہیں، پچاس میں نامکمل ترقیاتی کام ہوئے ہیں جبکہ بیس سوسائٹیاں بالکل بوگس ہیں۔ صوبائی وزیر ہاؤسنگ نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حکومت غیر قانونی سوسائٹیوں کے خلاف یکم جولائی سے کاروائی شرو ع کرے گی لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||