BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 August, 2006, 07:53 GMT 12:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غریبوں کے پلاٹ افسران کے نام

افسران کوجس کوٹہ سے پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں وہ بعض قانونی ماہرین کے مطابق اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔
افسران کوجس کوٹہ سے پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں وہ بعض قانونی ماہرین کے مطابق اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔
پاکستان کے ہاؤسنگ کے وزیر سید صفوان اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ بیس کے قریب اعلیٰ عہدوں والے افسران نے خود کو غریب اور خستہ حال ظاہر کرتے ہوئے ’ہارڈ شپ کوٹہ‘ کے تحت پلاٹ الاٹ کروائے ہیں۔

قومی اسمبلی میں ثمینہ خالد گھرکی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر نے بتایا کہ خستہ حالی کی بنیاد پر پلاٹ حاصل کرنے والوں میں ایک جج اور دو صحافی بھی شامل ہیں۔

وزیر کے مطابق سب سے بڑے سائز یعنی پہلی کیٹیگری کے پلاٹ اپنے نام کرانے والے افسران میں خصوصی جج محمد افضل، زرعی ترقیاتی بینک کے چیئرمین کی حیثیت میں استقبال مہدی، کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کے چیئرمین کے طور پر لئیق شاہ، قومی ادارہ صحت کی سربراہ کی حیثیت میں مسمات مزمل غفور اور ایک ریٹائرڈ جوائنٹ سیکریٹری راجہ عبداللہ خان شامل ہیں۔

اسی طرح ایوان صدر کے جوائنٹ سیکریٹری شاہد ہمایوں، وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل طاہر اقبال بٹ اور سول سروسز اکیڈمی کے چیف انسٹرکٹر سرفراز حسین خواجہ نے بھی خستہ حال افراد کے کوٹے سے پہلی کیٹیگری میں پلاٹ حاصل کیے ہیں۔

ایڈیشنل کلیکٹر کسٹم اینڈ ایکسائیز راحیلہ خالد، ڈپٹی کمشنر انکم ٹیکس ثمینہ مجیب اور محمکہ تعلیم کے اسسٹنٹ پروفیسر فردوس عمر بھی زبوں حال افراد کے کوٹہ سے دوسری کیٹیگری کے پلاٹ حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔

وزارت دفاع کے ادارے ’ڈیسٹو‘ کے انتظامی افسر ایس ایم الیاس، فاٹا سیکریٹیریٹ کے ڈائریکٹر سلیم محمود، ’ٹی اینڈ ٹی‘ کے سینیئر ڈویزنل اکاؤنٹنٹ ایس ایم امان اللہ، آئل اینڈ گیس ڈیولپمینٹ کارپوریشن کی اکاؤنٹنٹ حمیرا سہیل اور پاکستان انڈیپیڈنٹ نیوز سروس کے چیف رپورٹر طاہر جاوید راٹھوڑ کو خستہ حالی کے کوٹے سے تیسری کیٹیگری میں پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں۔

قومی احستاب بیورو
 واضح رہے کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو پر ’پی آئی اے‘ میں اور سابق سپیکر یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی میں مبینہ طور پر اپنے منظور نظر افراد کو ملازمتیں دینے کے الزام کے تحت اختیارات کے غلط استعمال کی بنا پر قومی احستاب بیورو نے مقدمات قائم کیے تھے۔

چوتھی کیٹیگری میں وزارت اطلاعات کے ایڈیٹر انچیف کے طور پر سید ایاز احمد پیرزادہ ( ان کے اہل خانہ امریکہ میں مقیم ہیں) اور کسٹم انسپیکٹر محمد رفیع رشید نے بھی ز بوں حال افراد کے کوٹہ سے پلاٹ لیئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی رہائش کی سکیموں میں غریب، نادار، خستہ اور زبوں حال کم آمدنی والے نچلے درجے کے ملازمین یا فوت ہوجانے والے ملازمین کی بیواؤں وغیرہ کے لیے حکومت نے پالیسی میں ’ہارڈ شپ کوٹہ‘ مقرر کیا تھا۔لیکن جس طرح بڑے افسران کواس کوٹہ سے پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں وہ بعض قانونی ماہرین کے مطابق اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو پر ’پی آئی اے‘ میں اور سابق سپیکر یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی میں مبینہ طور پر اپنے منظور نظر افراد کو ملازمتیں دینے کے الزام کے تحت اختیارات کے غلط استعمال کی بنا پر قومی احستاب بیورو نے مقدمات قائم کیے تھے۔

اسی بارے میں
پاکستانی وزراء کی مراعات
01 December, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد