اخلاقی پسپائی میں پاکستانی وزراء | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے اپنے وزراء اور وزراء اعلیٰ کے لیے’اخلاقی پسپائی‘ کے عنوان سے ایک روزہ سیمینار منعقد کیا جس میں انہیں احتساب بیورو اور بعض عالمی ماہرین نے لیکچر دیے۔ وزیراعظم شوکت عزیز کی سرکاری رہائش گاہ پر منعقد کیے گئے اس ورکشاپ کا مقصد ملک میں بہتر حکمرانی کے قیام، بدعنوانی کو روکنے اور حکومتی امور کو شفاف بنانا بتایا گیا ہے۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے سے شروع ہونے والے اپنی طرز کے اس انوکھے ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت تمام سطحوں پر بہتر حکمرانی قائم کرنے اور معاملات کو شفاف بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھی وزراء پر زور دیا کہ وہ مل جل کر کام کریں اور اپنے محکموں میں مالی نظم وضبط قائم کریں۔ وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں اصلاحات کا ذکر کیا اور کہا کہ ان سے کافی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے ٹیکس نظام میں بہتری اور ٹیکس دہندگان کو دی گئی سہولیات کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ انہوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری ملازمین کو زیادہ مراعات دینے پر زور دیا اور کہا کہ ملازمین کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے انہیں فنی تربیت بھی دینی چاہیے۔ پاکستان کے قومی احتساب بیورو کے افسران اور عالمی ماہرین نے لیکچر دیے۔ اطلاعات کے مطابق بیشتر وزراء بوریت کا شکار رہے اور جب قومی احستاب بیورو کے ماہرین نے وزراء کو بدعنوانی کے خاتمے کے متعلق لیکچر دے رہے تھے اس موقع پر بعض وزراء نے حال ہی میں بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے بیورو کے اعلیٰ افسر کے معاملے کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بعد میں کہا کہ اس طرح کے سیمینار بڑے مفید ہوتے ہیں اور نائیجیریا میں کافی بہتری آئی ہے۔ان کے مطابق اخلاقیات کے متعلق کھل کر بات کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ سیمینار کے اختتامی اجلاس سے صدر نے خطاب کرنا تھا۔ اس سیمینار میں تمام وزراء کی شرکت یقینی بنانے کے لیے انہیں پہلے ہی ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس سے رابطہ کر کے سختی سے تاکید کی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||