اسلام آباد کے بیت الخلاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر اسلام آباد کی ترقیاتی مہم جہاں نئی عمارتیں، سڑکیں اور شاپنگ مال کی تعمیرات زور و شورسے جاری ہیں وہاں پر شہریوں کی ایک بنیادی ضرورت کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا ہے اور وہ ہے رفع حاجت۔ کیپٹیل ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے نے اس بنیادی شہری مسئلے کے پیشِ نظر شہر بھر میں ٹوائلٹوں کا ایک جال بچھانے کا ارادہ کیا ہے تاکہ آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جاسکے۔ اس سلسلےمیں سی ڈی اے نے پہلے مرحلےمیں 33 نئے بیت الخلاء تعمیر کیے ہیں جن کو وہ خود چلانے کی بجائے ٹھیکے پر دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سی ڈی اے کے ڈائریکٹر سینی ٹیشن مصطفین کاظمی کا کہناہے کہ ایک ترقی یافتہ شہر میں عوامی استعمال کے لیے بیت الخلاء ایک بنیادی ضرورت ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے بتایا کہ ایک سال پہلے تک اسلام آباد میں صرف 100 کے لگ بھگ پبلک بیت الخلاء تھے جو کہ ظاہر ہے دس لاکھ کی آبادی کے شہر کے لیے ناکافی تھے۔ پچھلے چند ماہ میں یہ تعداد اب 150 کے لگ بھگ ہوگئی ہے۔ جس میں 33 سی ڈی اے نے اور 13 ایک پرائیویٹ پارٹی نے تعمیر کیے ہیں۔سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ یہ تعداد آنے والے مہینوں میں اور بھی زیادہ ہو جائے گی۔
تاہم سی ڈی اے کی اس مہم کے ایک حصے کو دیکھنے کے لیے جب ہم اسلام آباد کے مصروف بازار ’میلوڈی مارکیٹ‘ گئے تو اُس پر تالا لگا ہوا تھا اور اُس کے ساتھ منسلک نیول کمپلیکس کی دیوار کے ساتھ ایک شخص بیٹھا پیشاب کررہا تھا۔ اُس کے فارغ ہونے پر جب اس سے پوچھا گیا کہ اُس نے ٹوائلٹ کیوں استعمال نہیں کیا تو اُس نے تالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پنجابی میں کہا۔ ’ایہدہ بندہ اَج نیئں آیا تے فیر اَسی کی کرئیے‘ ( اس کو چلانے والا ٹھیکدار آج چھٹی پر ہے تو ہم اور کیا کریں)۔ شہرکے ایک اور مصروف بازارجناح سُپر میں مردوں اور خواتین کے علیحدہ علیحدہ ٹوائلٹ ہیں۔ لیکن یہاں عالم یہ تھا کہ ایک تو اندر صفائی نہیں تھی اور دوسرے بدبو بہت زیادہ تھی اور نہ پانی تھا نہ صابن۔ بیت الخلاء کو چلانے والا ایک شخص باہر کُرسی پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ اُس نے اپنا نام تو نہ بتایا مگر پانی کی عدم دستیابی کا سی ڈی اے کو ذ مہ دار ٹھہرایا۔ جب پوچھا گیا کہ 3 روپے فی استعمال چارج کرنے کے باوجود صابن کیوں نہیں مہیا کیا جاتا توکہنے لگا کہ لوگ چوری کر لیتے ہیں اس لیے وہ نہیں رکھتے۔ سی ڈی اے کے سینی ٹیشن ڈائریکٹر نے اعتراف کیا کہ پرانے تمام بیت الخلاء کے پانی ، صابن اور صفائی کے مسائل ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اِن ٹوائلٹس کی ناگفتہ بہ حالت کی ایک وجہ معاشرتی طور پر سینی ٹیشن اور صفائی پر عدم توجہی ہے۔ ’صابن تو صابن یہاں لوٹے بھی چوری ہو جاتے ہیں‘۔ انہی تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے سی ڈی اے نے یہ فیصلہ کیا کہ شہر بھر کی مصروف ترین جگہوں یعنی بازاری مراکز جہاں پر آمدورفت زیادہ ہو وہاں مرد اور خواتین دونوں کے لیے اعلٰی درجے کی نئے بیت الخلاء تعمیر کیے جائیں۔ ان میں 33 کی تعمیر ہو چکی ہے جن کو لائسنس کے ذریعے کسی بڑی کمپنی کو ٹھیکے پر دیا جائے گا۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ ان میں بجلی ، پانی ، صابن، تولیے اور صفائی کی دستیابی کو لازمی بنایا جائے گا۔ | اسی بارے میں مہنگا ترین بیت الخلاء 28.07.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||