مسلح افواج پر زمین پر قبضے کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کے وزراء نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے قریب ایئر فورس اور فوج مختلف قبائل کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے لیکن اب گورنر اویس احمد غنی کی یقین دہانی کے بعد وہ بلوچستان اسمبلی میں جمع شدہ قرار داد پر زور نہیں دینا چاہتے۔ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں جمعے کے روز متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر عبدالرحیم بازئی نے دوسری مرتبہ ائیر فورس اور فوج کی جانب سے زمینوں پر قبضے کے بارے میں قرارداد پیش کرنا چاہی لیکن کورم ٹوٹ گیا اور اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ دو روز پہلے یہی قرار داد پیش کرنے سے پہلے کورم ٹوٹ گیا تھا جس پر سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔ مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ اب گورنر بلوچستان اویس احمد غنی نے معاملہ تین ہفتے میں سلجھانے کا وعدہ کیاہے لہذا اب وہ صوبائی وزیر سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ قرار داد پر زور نہ دیں۔ صوبائی وزیر عبدالرحیم بازئی نے قرار داد میں کہا ہے کہ ائیر فورس اور فوج کوئٹہ کے اغبرگ کے علاقے میں بازئی اور دیگر قبائل کی ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ عبدالرحیم بازئی نے کہا کہ اسی طرح سرہ غوڑگئی چشمہ اچوزئی ہنہ اوڑک مشرقی اور مغربی بائی پاس کی زمینوں پر فوج نہ صرف قبضہ کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے بلکہ اس سلسلے میں بلاجواز بغیر کسی نوٹس کے ان اراضیات کے مالکان کو گرفتار کیا جا رہا ہے جس سے یہاں کے عوام بالخصوص قبیلہ بازئی کو ناقابل تلافی نقصان کے علاوہ ذہنی قرب اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ چونکہ گورنر وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور وہ وفاقی اداروں کو قائل کر سکتے ہیں کہ وہ قبائلیوں کو ان کی زمین کا معاوضہ دے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر گورنر نے معاملہ نہ سلجھایا تو اس کے بعد مجلس عمل کے وزراء کیا لائحہ عمل اختیار کریں گے تو انھوں نے بار بار یہی کہا کہ انھیں گورنر پر یقین ہے کہ وہ ضرور مسئلہ حل کریں گے۔ | اسی بارے میں فوجی اراضی کا استعمال09 July, 2004 | پاکستان زمیندار فوج13 July, 2004 | پاکستان چالیس روپے فی مربع فٹ02 February, 2005 | پاکستان ’نیم فوجی بھی زمین پر قابض‘10 June, 2005 | پاکستان فوج کو زمین کیوں چاہئے؟20 June, 2005 | پاکستان اسلام آباد: فوج کے لیئے مزید زمین14 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||