BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 April, 2006, 09:03 GMT 14:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسلام آباد: فوج کے لیئے مزید زمین

 اسلام آباد
فوج کو ماضی میں بھی نہایت سستے داموں پر زمین دی گئی ہے
پاکستان کے وزیرِ دفاع راؤ سکندر اقبال نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کو بتایا کہ اسلام آباد میں فوجی ہیڈ کوارٹر کے لیے مجموعی طور پر دو ہزار چار سو اڑتیس ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی ہے۔

خالدہ محسن قریشی کے سوال کے تحریری طور پر پیش کردہ جواب میں انہوں نے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کے تین سیکٹروں میں فوج کو الاٹ کردہ اس زمین میں سے ایک ہزار چار سو تیس ایکڑ زمین رہائشی کمپلیکس اور ایک ہزار آٹھ ایکڑ دفاتر کے لیئے ہے۔

بحریہ اور فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر اور رہائشی کمپلیکس پہلے ہی اسلام آباد میں تعمیر کیئے جا چکے ہیں جبکہ اب بری فوج اور تینوں مسلح افواج کے مشترکہ ادارے کے ہیڈ کوارٹر اب تعمیر ہونا ہیں۔

بری افواج نے پہلے گیارہ سو پینسٹھ ایکڑ اراضی مانگی تھی اور بعد میں ایک ہزار پچاسی ایکڑ مزید زمین طلب کی تھی لیکن جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں پیش کردہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بری فوج نے مزید ایک سو اٹھاسی ایکڑ زمین الاٹ کرا لی ہے۔

جمعہ کے روز پیش کردہ معلومات میں یہ نہیں بتایا گیا کہ فوج کو کس قیمت پر یہ زمین فراہم کی گئی ہے لیکن اس سے پہلے پارلیمینٹ کو بتایا گیا تھا کہ ایک ہزار پچاسی ایکڑ زمین چالیس روپے فی مربع گز اور باقی اراضی ڈیڑھ سو روپے فی مربع گز کی قیمت پر دی گئی ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق سیکٹر ’ای ٹین‘ میں گیارہ سو پندرہ ایکڑ اور سیکٹر ’ڈی الیون‘ میں تین سو پندرہ ایکڑ زمین رہائشی تعمیرات کے لیئے جبکہ ’ای نائن‘ اور ’ای ٹین‘ کے شمال میں ایک ہزار آٹھ ایکڑ دفاتر کے لیئے الاٹ کی گئی ہے۔

 تینوں مسلح افواج میں سے بحریہ اور فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر اور رہائشی کمپلیکس پہلے ہی اسلام آباد میں تعمیر کیئے جا چکے ہیں جبکہ اب بری فوج اور تینوں مسلح افواج کے مشترکہ ادارے کے ہیڈ کوارٹر اب تعمیر ہونا ہیں۔

واضح رہے کہ فوج کو جن سیکٹروں میں نہایت سستے داموں یہ زمین دی گئی ہے ان سے ملحقہ نجی رہائش والے سیکٹروں میں ایک ہزار گز کے پلاٹ کی موجود قیمت تین سے پانچ کروڑ روپے تک ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے دفاعی بجٹ کا ماضی میں جب بھی ’آڈیٹر جنرل آف پاکستان‘ نے سالانہ آڈٹ کیا ہے تو کوئی سال ایسا نہیں جس میں انہوں نے کروڑوں روپوں کی بدعنوانی کی نشاندہی نہ کی ہو۔

’آڈیٹر جنرل آف پاکستان‘ جہاں دفاعی بجٹ میں بدعنوانی کی نشاندہی کرتا رہا ہے وہاں دفاعی مقاصد کے لیے حاصل کردہ زمین تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر بھی اعتراضات لگاتے ہوئے حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ فوج کو ایسا کرنے سے روکے لیکن تاحال کسی حکومت نے اس پر کارروائی نہیں کی۔

یاد رہے کہ اسلام آباد میں ’ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی‘ کے لیئے مارکیٹ ریٹ سے بہت کم ریٹ پر جو سینکڑوں ایکڑ زمین الاٹ کی گئی ہے وہ ’جی ایچ کیو‘ اور فوجیوں کے رہائشی کمپلیکس کے علاوہ ہے۔

اسی بارے میں
چالیس روپے فی مربع فٹ
02 February, 2005 | پاکستان
جی ایچ کیو اسلام آباد میں
06 September, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد