BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 June, 2005, 12:35 GMT 17:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نیم فوجی بھی زمین پر قابض‘

شمالی وزیرستان
قبائل نے صدر مشرف سے زمین وا گزار کرانے کی اپیل کی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی درپہ خیل قبیلے اور نیم فوجی ملیشیا کے درمیان اراضی پر تنازعے نے فریقین میں تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ مقامی قبیلے نے حکومت سے اس اراضی کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متنازعہ پینتیس ہزار کنال اراضی میران شاہ میں نیم فوجی ملیشیا ٹوچی سکاؤٹس کے قلعہ کےشمال مغرب میں غلام خان روڈ کےمشرق میں واقع ہے اور چند سال پہلے تک بنجر اور غیرآباد تھی۔

درپہ خیل قبیلے کا جو اس اراضی کی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے کہنا ہے کہ ٹوچی سکاؤٹس نے اس پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔

اس اراضی کا قبضہ واگزار کرانے کے لیے درپہ خیل قبیلے کے سردار اور عمائدین آج کل متحرک ہیں۔ ان گنت سرکاری و فوجی اہلکاروں کے ساتھ لاحاصل ملاقاتوں اور مذاکرات سے نااُمید ہونے کے بعد قبیلے کے مشیران نے جمعہ کے اخبارات میں پہلے صفحے پر صدر پرویز مشرف، گورنر سرحد اور کور کمانڈر پشاور کے نام اپیلیں شائع کرانے کے علاوہ پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔

قبیلے کے سربراہ حاجی پشم دین نے صحافیوں کو بتایا کہ انگریزوں کے دور میں بھی غیرملکیوں نے ایک انچ زمین ان کی مرضی یا مشورے کے بغیر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن چند برس پہلے ٹوچی سکاؤٹس کے ایک کمانڈنٹ نے اس پر زبردستی قبضہ کر کے اس کے گرد کچی دیوار بھی تعمیر کرا دی ہے۔

حاجی پشم دین کا کہنا تھا کہ اراضی پر صرف گندم کاشت کر کے نیم فوجی ملیشیا نے اس سال سات لاکھ روپے کمائے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا علاقے میں فوج سرحدوں کی حفاظت یا لوگوں کی اراضی پر قبضے کے لیے بھیجی گئی ہے۔

قبائلیوں کا کہنا تھا کہ اس قدم سے ان میں شدید غصہ پایا جاتا ہے تاہم وہ اس مسئلہ کا حل پرامن طریقے سے تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔

درپہ خیل قبیلہ شمالی وزیرستان کے بڑے قبیلوں میں سے ایک ہے جس کی آبادی ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ نفوس سے زیادہ ہے۔ ان میں تعلیم کی شرح کافی زیادہ ہے اور اس قبیلے کے کئی لوگ بڑے سرکاری عہدوں پر بھی فائز ہیں۔

اس قبیلے کے بیان کے بارے میں ابھی فوجی حکام کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

شمالی وزیرستان پہلے ہی القاعدہ اور طالبان کے شدت پسندوں کے خلاف کسی متوقع کارروائی کے مدنظر کافی تناؤ کا شکار ہے۔ خدشہ ہے کہ اراضی کا یہ قضیہ حالات میں مزید خرابی پیدا کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد