جسٹس افتخار کا پرجوش استقبال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے غیرفعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سنیچر کی شام کو سکھر پہنچ گئے ہیں جہاں وہ سکھر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر میں شرکت کریں گے اور وکلاء سے خطاب کریں گے۔ سکھر ایئر پورٹ پر سندھ کے مختلف اضلاع شکارپور، خیر پور، لاڑکانہ اورگھوٹکی سے آئے ہوئے وکلاء کی بڑی تعداد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔اس موقع پروکلاء ’گو مشرف گو، کالی کوٹ کالی ٹائی مشرف تیری شامت آئی‘ اور ’افتخار ہمارا ہیرو ہے‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ استقبال کرنے والوں میں پیپلز پارٹی کے ایم این اے خورشید شاہ اور سندھ عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو بھی شامل تھے۔ ایئر پورٹ پر سکھر ہائیکورٹ کے جسٹس ضیاء پرویز، جسٹس ندیم اظہر اور سیشن جج فیض رسول راشدی نے معطل چیف جسٹس سے ملاقات کی۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری کو سکھر ہائیکورٹ کی جانب سے سالانہ ڈنر کی دعوت بیس فروری کو دی گئی تھی۔ مارچ میں ان کی معطلی اور جوڈیشل کونسل کی سماعت کے بعد چیف جسٹس کو سکھر بائیکورٹ بار کی طرف سے دوبارہ مدعو کیاگیا۔ سکھر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری شبیر شر کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس رات نو بجے سالانہ ڈنر کے موقع پر سندھ بھر سے آئے ہوئے وکلاء سے خطاب کریں گے۔ شبیر شر کے مطابق ان کا خطاب ایسا ہی ہوگا جیسا چیف جسٹس کا بار کے اراکین سے ہوتا ہے۔ اس میں سیاسی معاملات شامل نہیں ہوں گے کیونکہ افتخار محمد چوہدری تاحال چیف جسٹس آف پاکستان ہی ہیں۔ شبیر شر کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری رات سکھر میں گزارنے کے بعد اتوار کی صبح حیدر آباد کیلئے روانہ ہوں گے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہونے اور عدلیہ کے بحران کے بعد پہلی مرتبہ سندھ کے دورے پر آرہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کی ایک تقریب سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔ دوسری جانب مقامی پولیس نے سکھر ہائیکورٹ کی عمارت سے ایک فرید نامی شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مشکوک انداز میں عدالت کی عمارت کے اندر داخل ہو رہا تھا۔ فرید کراچی کا رہنے والا ہے اور اس کا بظاہر سکھر ہائیکورٹ میں کوئی کیس نہیں چل رہا تھا۔ گرفتار فرید سے پولیس کی ایک ٹیم تفتیش کر رہی ہے۔ اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سکھر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر و سابق سینیٹر امداد اعوان نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے استقبال کے لیے کسی سیاسی جماعت کو دعوت نہیں دی گئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||