BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 April, 2007, 14:44 GMT 19:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پولیس نے جنسی طور پر ہراساں کیا‘

ڈاکٹر آمنہ بٹّر
ڈاکٹر آمنہ بٹّر نے پولیس کی مبینہ بد سلوکی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے
امریکہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹر اور انسانی حقوق کی فعال کارکن ڈاکٹر آمنہ بٹّر نے تین اپریل کو معطل چیف جسٹس کی عدالت عظمی آمد کے موقع پر اپنے ساتھ پولیس کی مبینہ بد سلوکی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ہفتے کے روز وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ سے ملاقات کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر آمنہ نے کہا کہ انکی تحریری درخواست پر وزیر داخلہ نے فوری ایکشن کی یقین دہانی کروائی ہے۔

انٹیلی جنس بیورو نے بھی ہراساں کیا
 درخواست میں آمنہ بٹّر نے انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ پر بھی اپنے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں

امریکی شہریت رکھنے والی امریکی ڈاکٹر نے اس درخواست میں نا معلوم پولیس اہلکاروں کی جانب سے ان پر تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات اور ذمّہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

درخواست میں آمنہ بٹّر نے انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ پر بھی اپنے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے آمنہ بٹّر پر پولیس تشدد اور سیکیورٹی ایجنسیز کی طرف سے انہیں دھمکانے کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اخبارات کو بھیجے گئے ایک بیان میں بے نظیر بھٹو نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں خواتین سیاسی کارکنوں کا استحصال ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصّہ ہے۔

اسی بارے میں
طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ
13 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد