’پولیس نے جنسی طور پر ہراساں کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹر اور انسانی حقوق کی فعال کارکن ڈاکٹر آمنہ بٹّر نے تین اپریل کو معطل چیف جسٹس کی عدالت عظمی آمد کے موقع پر اپنے ساتھ پولیس کی مبینہ بد سلوکی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ہفتے کے روز وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ سے ملاقات کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر آمنہ نے کہا کہ انکی تحریری درخواست پر وزیر داخلہ نے فوری ایکشن کی یقین دہانی کروائی ہے۔
امریکی شہریت رکھنے والی امریکی ڈاکٹر نے اس درخواست میں نا معلوم پولیس اہلکاروں کی جانب سے ان پر تشدد اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات اور ذمّہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں آمنہ بٹّر نے انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ پر بھی اپنے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے آمنہ بٹّر پر پولیس تشدد اور سیکیورٹی ایجنسیز کی طرف سے انہیں دھمکانے کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اخبارات کو بھیجے گئے ایک بیان میں بے نظیر بھٹو نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں خواتین سیاسی کارکنوں کا استحصال ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصّہ ہے۔ | اسی بارے میں جسٹس افتخار کا پرجوش استقبال14 April, 2007 | پاکستان افسروں پر فردِ جرم عائد کر دی گئی04 April, 2007 | پاکستان سماعت ملتوی، وکلاء کے مظاہرے03 April, 2007 | پاکستان وکلاء کی حمایت، اے آر ڈی کی ریلی13 April, 2007 | پاکستان طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ13 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||