اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | اس آئینی درخواست میں صدر پاکستان کو بھی فریق بنایا گیا ہے |
اسلام آباد میں غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ میں اپنی معطلی اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کر دیا ہے۔ جسٹس افتخار چودھری نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کی پٹیشن کے فیصلے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روک دی جائے۔ چودھری اعتزاز احسن نے دو سو صفحوں پر مشتمل آئینی درخواست بدھ کے روز سپریم کورٹ میں جمع کرائی جس میں ایک سو بتیس آئینی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ اس آئینی درخواست میں صدر پاکستان اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ پٹیشن میں معطل چیف جسٹس نے خود کو غیر فعال بنائے جانے، جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے ساتھ ساتھ جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس رانا بھگوان داس کو قائم مقام چیف جسٹس بنانے کے بارے میں جاری کردہ نوٹیفکیشنز کو بھی چیلینج کیا ہے۔ پ  | | | سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی پٹیشن میں ایک سو بتیس آئینی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں | اکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا موقع ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے خود کو انصاف دلانے کے لیے اپنی عدالت میں درخواست دی ہے۔ ایسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سینیئر وکیل نے کہا کہ پہلے جسٹس افتخار محمد چودھری کو منصف سے ملزم بنایا گیا اور اب وہ منصف سے سائل بنے ہیں۔ غیرفعال چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن کے مطابق یہ درخواست آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت دائر کی گئی ہے اور اس کی تشریح آرٹیکل 209 کی مدد سے ہوگی جس کے تحت موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف صدارتی ریفرنس نہیں بھیجا جا سکتا۔ درخواست میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کاآئین چیف جسٹس کی معطلی یا ان کو غیر فعال کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور ان کے خلاف کوئی بھی قدم صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے حتمی فیصلے کے بعد لیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کی چیف جسٹس کے بنا تشکیل ہی نہیں ہوسکتی۔ اس سے پہلے بھی سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے خلاف پانچ آئینی درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ تاہم غیر فعال چیف جسٹس کی طرف سے ان کی معطلی اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کے خلاف دائر کی جانے والی پہلی پٹیشن ہے۔ |