BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 April, 2007, 15:04 GMT 20:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وقت کے سینے میں دھڑکنے کاہنر۔

حیدرآباد میں چیف جسٹس کا زبردست استقبال
پاکستان کے غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا دورہ سندھ ایک عوامی انداز میں تھا۔ جہاں وکلا سرگرم تھے تو عدلیہ کے ارکان بھی ان سے پیچھے نہیں تھے۔

حیدرآباد میں جسٹس افتخار محمد چودھری کو دیئے گئے استقبالیے میں بار اور بنچ کی بھرپور شرکت نے کئی سوالات کے واضع جوابات فراہم کر دیے ہیں۔

وکلا تو جسٹس افتخار کے شروع سے ہی ساتھ ہیں لیکن سندھ ہائی کورٹ کے پندرہ ججوں نے اپنی شرکت کے ذریعے بتا دیا کہ موجودہ عدالتی بحران میں وہ

نو مارچ کا دن پرویز مشرف کا دن تھا جب اس نے چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس طب کر کے ان سے بدتمیزی اور بدسلوکی کی لیکن اس ایک دن کے بعد سارے دن ہمارے ہیں۔
کہاں کھڑے ہیں۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس رحمت حسین جعفری، جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو، جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس زوار حسین جعفری اور دیگر ججوں نے استقبالیے میں نے کوئی تقریر کی اور نہ ہی کوئی ریمارک دیا۔ لیکن جذبات سے بھرپور وکلاء کی محفل میں ان کی خاموش شرکت سننے اور دیکھنے والوں کےلیے بہت کچھ کہ گئی ۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کو سندھ بھر میں چیف جسٹس جیسا مکمل پروٹوکول دیا گیا۔

وہ سکھر ایئرپورٹ پر اترے تو سکھر ہائی کورٹ کے ججز جسٹس ضیا پرویز اور جسٹس ندیم اظہر صدیقی نے ان کا استقبال کیا اور انہیں ججز لاجز میں ٹہرایا گیا۔

حیدرآباد میں سندھ ہائی کورٹ کے ججز کی بہت بڑی تعداد دیکھ کر چند لمحوں کے لیے وکلاء رہنما علی احمد کرد کی وہ تقریر یاد آنے لگی جو انہوں نے سکھر ہائی کورٹ کے احاطے میں بڑے جذباتی انداز میں کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ سینئر ججز کو اپنے چیمبر اور عدالتی کمرے چھوڑ کر باہر آنا چاہیے۔ کرد کا کہنا تھا کہ ہم وکلاء تو جسٹس کے چچازاد بھائی یا کزن وغیرہ ہو سکتے ہیں تم تو جسٹس کے برادر جج ہو تم لوگوں کو بھی اپنے بھائی کو انصاف دلانے کی خاطر باہر آنا چاہیے۔

کرد کا کہنا تھا کہ ’ نو مارچ کا دن پرویز مشرف کا دن تھا جب اس نے چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس طلب کر کے ان سے بدتمیزی اور بدسلوکی کی لیکن اس ایک دن کے بعد سارے دن ہمارے ہیں۔‘

سکھر میں کہنے کو تو ہائی کورٹ بار کا سالانہ ڈنر تھا لیکن وہ ڈنر ایک بہت بڑے سیاسی اجتماع میں تبدیل ہوگیا جہاں ’گو مشرف گو‘ سے لیکر ’عدلیہ کو فوج پر برتری ہے برتری ہے جیسے نعرے لگائے گئے۔۔‘

اس اجتماع کی ابتدا میں تلاوت کے دوران جو آیات پڑھی گئیں ان کا ترجمہ سن کر وکلاء نے اللہ اکبر اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔

قرآن کی سورۃ توبہ کی آیات کا ترجمہ حافظ انور نے کچھ اس طرح پڑھا۔ اور اگر وہ عہد کرنے کے بعد قسموں کو توڑ ڈالیں تو کفر کے علمبرداروں کا کوئی اعتبار نہ کرو۔ کیا تم نہ لڑوگے ایسے لوگوں سے کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ ان سے لڑو اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو ذلیل و خوار کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کر ے گا۔‘

تلاوت کے بعد جو روایتی خاموشی ہوتی ہے ترجمہ سننے کے بعد وہ نعروں سے بھر گئی۔

تقاریر شروع ہونے سے قبل چیف جسٹس کی پذیرائی کی خاطر احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، فیض احمد فیض اور شیخ ایاز کی شاعری ان کے نظر کی گئی۔

کسی نےکہا کہ ’وقت کے سینے میں ہم دھڑکتے ہیں‘ تو کسی اور نے کہہ دیا کہ سچ بڑا مجرم ہے ۔اس نے کئی جرم کیئے ہیں لیکن آج تمہارے ہاں مہمان ہوا ہے کیا تم نے کبھی سوچا ہے کس سے تمھاری یاری ہے۔

جسٹس افتخار کو عدلیہ اور پولیس انتظامیہ نے مکمل پروٹوکول دیا۔ ان کو سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب سے آئے ہوئے وکلا وفود نے روایتی تحائف دیے۔

کئی سو اجرک اور سندھی ٹوپی کے تحائف انہوں نے وصول کیئے۔بدین کے ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بھی ان کو اجرک کا تحفہ دینے والوں میں شریک تھے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو سکھر میں دیئیے گئے استقبالیے میں ان کے ساتھ بدسلوکی پر احتجاج کر کے مستعفی ہونے والا سول جج راجیش چندر راجپوت بھی موجود تھے۔

جسٹس افتخار نے دورۂ سندھ کے دوران عوامی انداز اپنایا ہوا تھا۔ وہ سارے راستوں پر لوگوں کے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیتے رہے۔

انہوں نے مقامی لوگوں کی قربت خاطر کچھ دیر تک ٹوٹی پھوٹی سندھی زبان میں بات کی اور ان کا شکریہ انہی کی زبان میں ادا کیا۔

حیدرآباد میں تو سندھی تاریخ کے روایتی غدار کرداروں کا نام لیکر انہوں نے کہا کہ وکلا اپنی صفوں میں سے میر جعفر اور میر صادق جیسےلوگوں کو نکال دیں۔

سکھر اور حیدرآباد میں خطاب کے دوران انہوں نے اس امر کا بار بار اظہار کیا کہ انہوں نے بے بس اور عام آدمی کے مقدموں کو ترجیع دی۔ انہوں نے منو بھیل کیس اور دو کمسن بچوں کو ہتھکڑیاں لگانے والے کیس پر ازخود نوٹس کا بھی ذکر کیا۔

چیف جسٹس نے ایک بار بھی اپنے خلاف دائر ریفرنس کا نام لیکر ذکر نہیں کیا۔ جب انہیں ریفرنس کی بات کرنی پڑتی تو وہ صرف یہ کہتے کہ دعا کریں میرے معاملات میں خدا مجھے سرخرو کرے۔

جسٹس افتخار خود بھی والہانہ استقبال سے اس قدر مرعوب ہوگئے کہ انہوں نے سکھر میں دل کی بات کردی کہ ان کا دل لکھی ہوئی تقریر سی ہٹ کر باتیں کرنا چاہتا ہے لیکن چیف جسٹس کی حیثیت سے ان کے لیے چند حدبندیاں بھی ہیں۔

جسٹس افتخار کا دورہ سندھ وکلاء کو دوبارہ سرگرم تو کر گیا ہے لیکن کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ خود جسٹس افتخار محمد چودھری کے لیے بھی آئندہ کئی دنوں تک انرجی ٹانک ثابت ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد