سونیا ناز کیس، پولیس افسران بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کی مقامی عدالت نے ایک خاتون سونیا ناز کو اغواء کرنے اور اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام سے دو پولیس افسروں کو بری کر دیا ہے۔ بری ہونے والوں میں سپرنٹنڈنٹ پولیس خالد عبداللہ اور پولیس انسپکٹر جمشید چشتی شامل ہیں۔ ان دنوں افسروں کے خلاف سنہ دو ہزار پانچ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کا اندراج اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ازخود نوٹس کی وجہ سے عمل میں آیا تھا۔ دونوں پولیس افسروں کو گرفتار بھی کیا گیا لیکن بعد میں وہ ضمانت پر رہا ہوگئے۔
متاثرہ خاتون کے وکیل نوید عنایت ملک نے ایک درخواست بھی دی جس میں کہا گیا کہ سونیا ناز سے ان کا کئی ماہ سے رابطہ نہیں ہوا اور انہیں بھی علم نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ چونکہ سونیا ناز خود ہی اس مقدمے کی چشم دید گواہ بھی تھیں اس لیے جب تک وہ پیش نہیں ہوتیں مقدمہ کی کارروائی غیرمعینہ ملتوی کر دی جائے۔ عدالت نے یہ درخواست مسترد کردی اور پولیس افسروں کی بریت کی الگ الگ درخواستیں منظور کر لیں۔ وکیل نوید عنایت ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فیصلے کے خلاف تیس دن کے اندر وفاقی شرعی عدالت کے روبرو اپیل دائر کی جاسکتی ہے تاہم یہ فیصلہ سونیا ناز خود کریں گی۔ انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سونیا ناز تحفظ نہ ملنے کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوسکی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور سونیا ناز کے تحفظ کے لیے عدالت میں درخواست دی گئی تھی لیکن یہ درخواست مسترد ہوگئی تھی۔ | اسی بارے میں اجتماعی زیادتی، سندھ میں مظاہرے07 February, 2007 | پاکستان بلوچستان پولیس، 50 خواتین افسر09 February, 2007 | پاکستان حقوق نسواں، دوسرا بِل اسمبلی میں13 February, 2007 | پاکستان عورتوں کی عالمی دن پر کراچی ریلی07 March, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد، ورثاء کو معاوضہ دیا جائے08 March, 2007 | پاکستان حکومتی دعوے، NGOs اور ڈرامے08 March, 2007 | پاکستان خواتین کے اغواء کے خلاف مظاہرہ 05 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||