حقوق نسواں، دوسرا بِل اسمبلی میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں حکمران مسلم لیگ کے صدر شجاعت حسین نے منگل کو ’خواتین دشمن رواجات امتناع ایکٹ‘ پیش کیا ہے جس کے تحت قرآن سے شادی، ونی ، سوارہ یا کسی بھی زبردستی کی شادی کو فوجداری جرم قرار دے کر ان کی سزائیں مقرر کی جائیں گی۔ سپیکر قومی اسمبلی نے یہ ترمیمی بل سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی کے ممبران بعد میں نامزد کیے جائیں گے۔ قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے اس ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ جو شخص کسی عورت کو کسی فیصلے کے بدلے کے طور پر یا ونی یا سوارہ یا کسی دیگر رواج کے تحت زبردستی شادی کے لیے مجبور کرے گا اسے تین برس قید اور جرمانے کی سزا دی جائے۔ اس کے علاوہ اگر عورت کو وارثتی جائیداد سے دھوکے سے یا کسی بھی طریقے سے منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد سے محروم کیا جاتا ہے تو اس کے مرتکب فرد کو سات برس تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں۔ اسی طرح جو کسی عورت کو قرآن سے شادی پر مجبور کرتا ہے یا اس کا انتظام و سہولت فراہم کرتا ہے تو اسے تین برس قید اور اورجرمانہ کی سزادی جائے گی۔ بل کے مطابق اگر کسی عورت سے قرآن پر یہ حلف بھی لے لیا گیا کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی بغیر شادی کے گزارے گی اور وراثت سے حصہ نہیں لے گی تو اسے بھی قرآن پاک سے شادی کرنا سمجھا جائے گا۔ بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی شوہر نے لعان کی کارروائی کے تحت اپنی بیوی پر الزام عائد کیا اوربعد میں وہ غیر حاضر ہوا یا کسی وجہ سے الزام ثابت نہ کر سکا تو اسے قذف کی کاروائی کا سامنا تو ہوگا ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کارروائی کو بنیاد بنا کر عورت مجاز عدالت سے اپنا نکاح ختم کرسکتی ہے۔ البتہ بل میں کہا گیا ہے کہ اگر بیوی لعان کی کارروائی کے دوران زنا کا اعتراف کرتی ہے تواس کے خلاف زنا کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ بل میں ایک ایسی ترمیم بھی شامل ہے جس کے تحت صوبائی حکومتیں زنا بالجبر کی سزاؤں میں مداخلت نہیں کریں گی اور وہ تعزیرات کی دفعہ چار سو ایک، چارسودو(ب) کے تحت دی گئی کسی سزا کو معطل، معاف یا کم نہیں کریں گی۔ نئے بل میں جتنے معاملات کو جرم قرار دیا گیا ہے تقریبا ان تمام میں وارنٹ کے ذریعے گرفتاری ہوسکے گی اور یہ تمام جرم قابل ضمانت ہوں گے۔ حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین جب بل پیش کرنے لگے تو اس وقت وزیر اعظم شوکت عزیز بھی ایوان میں آگئے۔چودھری شجاعت حسین نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق کے لیے صدر مشرف نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج وہ جس بل کو پیش کر رہے ہیں اس کے ذریعے ملک سے عورتوں کی وراثت کے نام پر خرید و فروخت، قرآن سے شادی اور ونی جیسی پرانی رسموں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عورت کو عورت سمجھنا ضروری ہے اسے لونڈی نہ سمجھاجائے۔انہوں نے کہا آج تک عورتوں سے سماجی معاشی اور مذہبی طور زیادتیاں ہوتی رہی ہیں اس بل کے نفاذ کے بعد ان کا خاتمہ ہوجائے گا۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ اس قبل بھی حقوق نسواں قانون کو منظور کرنے میں اپوزیشن نے مدد کی تھی اور اب بھی وہ توقع کرتے ہیں کہ اپوزیشن اس بل کی حمایت کرے گی۔ اپوزیشن کے ایک بڑے اتحاد مجلس عمل کے اراکین پہلے سے کسی دوسری وجہ سے کیے گئے بائیکاٹ کی وجہ سے قومی اسمبلی میں موجود نہیں تھےجبکہ دیگر بھی کسی ممبر نے کوئی خاص مخالفت نہیں کی۔ یہ بل چودھری شجاعت حسین نے بطور پرائیویٹ ممبر پیش کیا تھا جس پر پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ نے اعتراض کیا اور کہا کہ ایسی کیا مجبوری تھی جو چودھری شجاعت حسین کویہ بل بطور پرائیوٹ ممبر پیش کرنا پڑا۔ انہوں نے کہاکہ اس سے لگتا ہے کہ حکومت اس بل کےبارے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے عبدالمجید پیرزادہ کا اعتراض تھا کہ انہیں اس بل کی نقل فراہم نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا اپوزیشن کو جان بوجھ کر اس بل سے دور رکھا جارہا ہے۔ بل پر بعد میں بنائی جانے والی سیلیکٹ کمیٹی اب اس پر بحث کے بعد اسے دوبارہ اسمبلی میں پیش کرے گی۔ | اسی بارے میں حقوق نسواں کا ایک اور بل 03 December, 2006 | پاکستان تحفظِ حقوقِ نسواں بل قانون بن گیا 01 December, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بِل کے خلاف مظاہرہ25 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بل سینیٹ سے منظور23 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بل اور پولیس آگاہی17 November, 2006 | پاکستان حقوق نسواں بل میں ترمیم15 November, 2006 | پاکستان ’حقوق نسواں بل اسلام کے منافی‘08 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||