’حقوق نسواں بل اسلام کے منافی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان بھر سے مختلف مسالک کے ایک سو کے قریب بعض بڑے جید علماء، مفتیان اور مشائخ نے قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی سے منظور کردہ حقوق نسواں بل کو اسلام کے منافی قرار دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر یہ بل حکومت نے پاس کرایا تو ملگ گیر احتجاجی تحریک چلائیں گے۔ ملک میں قائم دس ہزار سے زائد دینی مدارس جہاں سات لاکھ کے قریب طلباء زیر تعلیم ہیں ان کی تنظیمات کے نمائندگان بھی یہ دھمکی دینے والوں میں شامل ہیں اور انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے محض ایک روز قبل یعنی نو نومبر کو اسلام آباد میں کنونشن بلانے کا اعلان کیا ہے۔ مختلف مسالک کے مدارس کی تنظیمات کے اتحاد کے نمائندے مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے بدھ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سلیکٹ کمیٹی کے منظور کردہ مسودہ کو منظور کرانے کا اعلان کر چکی ہے جو انہیں قطعی قبول نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور علماء کی کمیٹی نے جو حدود قوانین میں ترمیم کے بل کا مسودہ تیار کیا ہے وہ اگر منظور کیا جائے تو انہیں اعتراض نہیں ہوگا۔ بدھ کے روز ان علماء، مفتیان، مشائخ اور مدارس کے مہتمین نے اردو روزنامہ نوائے وقت کے پچھلے صفحے پر آدھے صفحے کا ایک بڑا اشتہار شائع کرایا ہے جس کا عنوان ہے ’اللہ تعالیٰ کے عذاب اور غضب کو دعوت مت دو‘۔ واضح رہے کہ چھ مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں مولانا فضل الرحمٰن اور قاضی حسین احمد نے پہلے ہی دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر سلیکٹ کمیٹی کا منظور کردہ بل منظور ہوا تو وہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوکر حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ مذہبی جماعتوں کے بعد علماء، مشائخ اور مفتیان کی اس دھمکی کے بعد حقوق نسواں کا مجوزہ بل مزید متنازعہ بن گیا ہے اور بظاہر انہیں اعتماد میں لیئے بنا حکومت کے لیئے اس کی فوری منظوری کھٹائی میں پڑ گئی ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے پہلے سے اعلان کر رکھا ہے کہ دس نومبر کو شروع ہونے والے اسمبلی کے اجلاس سے سلیکٹ کمیٹی کا منظور کردہ بل ہی حکومت پاس کروائے گی۔ حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل اور اٹارنی جنرل کی مشاورت کے بعد جب بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا تو اسے ایوان کی خصوصی کمیٹی یعنی سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا گیا۔ حکومت نے ان کی مشاورت سے غیر جانبدار علما کی کمیٹی بنائی جس نے اس میں ترمیم کے بعد ایک نیا مسودہ دیا۔ جس میں وزیر قانون وصی ظفر کے مطابق زنا بالجبر پر فوجداری قانون کے تحت کارروائی نہ ہونے اور چار گواہوں کی موجودگی میں اسلامی قانون کا نفآذ لازمی قرار دیا گیا تھا اور زنا بالرضا پر بھی سزا تجویز کی گئی تھی۔
جب نئے مسودے کو حکومت نے بل کی شکل دی تو حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے اعتراض کیا کہ وہ صرف سلیکٹ کمیٹی کے مسودے کی حمایت کریں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اپوزیشن کی واحد جماعت تھی جس نے حکومت کے اس بل کی حمایت کی تھی لیکن جب اس میں دوبارہ اسلامی دفعات شامل کی گئیں تو انہوں نے بھی ایم کیو ایم کی طرح بل کی مخالفت کا اعلان کیا اور صرف سلیکٹ کمیٹی کا مسودہ منظور کرنے کا اعلان کیا۔ ایسی صورت میں حکومت نے کہا کہ وہ سلیکٹ کمیٹی کا مسودہ ہی ایوان میں پیش کریں گے۔ جس پر مذہبی جماعتوں کے بعد اب علما بھی مخالفت میں سامنے آئے ہیں ۔لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کا سیاسی جماعتوں سے کوئی تعلق نہیں وہ صرف اسلام کے منافی قانون سازی کے مخالف ہیں۔ | اسی بارے میں حدود مقدمات کی تفصیلات طلب09 July, 2006 | پاکستان حدود آرڈینینس کی شکار خواتین20 April, 2006 | پاکستان حدود قوانین پر فیصلہ مؤخر28 March, 2006 | پاکستان حدود قوانین کی نظرثانی پر اجلاس 27 March, 2006 | پاکستان حدود قوانین منسوخ کرنے کا مطالبہ07 February, 2006 | پاکستان حدود قوانین کی تنسیخ کا بل پیش 07 February, 2006 | پاکستان حدود قانون ترمیم، حکومتی مخالفت06 December, 2005 | پاکستان ’حدود قوانین میں ترمیم ہو گی‘25 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||