BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 February, 2007, 16:03 GMT 21:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اجتماعی زیادتی، سندھ میں مظاہرے

اخواتین کے ساتھ زیادتی کے خلاف سندھ میں احتجاجی مظاہرے
سندھ کے اکثر بڑے شہروں میں بدھ کو اجتماعی زیادتی کا شکار تین خواتین کو انصاف کی فراہمی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیےاحتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

گزشتہ دنوں میں نوشہروفیروز کی شہزادی ناگور، میہڑ کی کائنات سومرو اور اوباوڑو کی نسیمہ لبانو کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا شکار بنایا گیا ہے۔

عورت فاونڈیشن کے مطابق سکھر، لاڑکانہ، دادو، بدین، گھوٹکی، نوابشاہ، ٹھٹہ ، خیرپور میں بھی مظاہرہ کئےگئے ہیں۔

کراچی میں بدھ کی دوپہر عورت فاؤنڈیشن، وار اگینسٹ ریپ، انسانی حقوق کمیشن، سندھیانی تحریک اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور گورنر ہاؤس کے سامنے دہرنا دیا گیا۔

احتجاج میں حقوق نسواں کے لیے سرگرم خواتین رہنما اور سسئی پلیجو، مہرین بھٹو، سابق جسٹس ماجدہ رضوی ، انیس ہارون بھی شریک تھیں۔

مظاہرین نے سندھ میں عورتوں پر تشدد نامنظور، کارو کاری اور جرگہ سسٹم نامنظور، نسیمہ کو انصاف دو کے نعرے لگاتے ہوئے گورنر ہاؤس تک مارچ کیا اور دہرنا دیا۔

عورٹ فا‎‎‎ؤنڈیشن کی رینجل کوآرڈینیٹر انیس ہارون کا کہنا تھا کہ اندروں سندھ میں خواتین سے اجتماعی زیادتی کے تین واقعات رونما ہوئے ہیں مگر حکومتی حکام میں سے کسی نے بھی اس کا نوٹس نہیں لیا ہے۔

مظاہرے
’خواتین کو کہاں تحفظ حاصل ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت سے یہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ ان کی رٹ کہاں ہے، یہ حکمراں روشن خیالی کا اتنا پروپیگنڈہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے تحفظ حقوق نسواں کا بل منظور کرایا ہے مگر وہ ان سے یہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ خواتین کو کہاں تحفظ حاصل ہے۔

انیس ہارون کے مطابق عورتوں کو انصاف چاہئے لیکن یہاں نہ تو مقدمہ درج ہوتا ہے نہ ہی ملزموں کو پکڑا جاتا ہے الٹا خواتین کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ انہوں سوال کیا کہ کیا یہ پاکستان ہے یا عورتوں کے لیے عذابستان بنایا گیا ہے۔

خواتین کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے بنائی گئی کمیٹی کی سابق سربراہ اور جسٹس (ریٹائرڈ ) ماجدہ رضوی کا کہنا تھا کہ حکومت ان جرائم کو کنٹرول نہیں کرپا رہی ہے کیونکہ قانون میں کئی نقص موجود ہیں، جس وجہ سے ملزم بچ جاتے ہیں اگر کوئی پکڑا بھی جاتا ہے تو چھوٹ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ان لوگوں کو سزا نہیں ملے گی، اور ان کی مجرم کے طور پر شناخت نہیں کی جائے گی اس وقت تک یہ مک مکاؤ کرکے رہا ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک قانون صحیح نہیں ہوگا اور حکومت مجرموں کو سزا دینے کا تہیہ نہیں کر لیتی اس وقت تک کچھ بھی نہیں بدلے گا۔

ماجدی رضوی نے کہا قانون میں تھوڑے ردو بدل سے معاملات ٹھیک نہیں ہوں بلکہ قصاص و دیئت کا قانون تبدیل کرنا ہو گا۔ جب تک یہ تمام چیزیں نہیں ہونگیں کچھ نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں
سندھ: ’475 خواتین کا قتل‘
28 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد