BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 December, 2006, 22:59 GMT 03:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: ’475 خواتین کا قتل‘

شہزادی
سندھ میں اجتماعی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا(فائل فوٹو)
سندھ میں اس سال خواتین کے خلاف تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا اور حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے مطابق سال کے آخر تک چار سو پچھہتر خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد تین سو چوراسی تھی۔

عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں کارو کاری کے نام پر خواتین کا قتل جاری رہا۔ سال کے پہلے دن شکارپور میں ایک شوہر نے اپنی بیوی کو قتل کر کے اس کی ابتدا کی اور سال بھر میں صوبہ سندھ میں دو سو بیس خواتین اور ایک سو تیس مرد غیرت کے نام پر قتل کیے گئے۔

سالانہ رپورٹ میں دیے گئے اعدادوشمار کے مطابق بارہ خواتین کو، جن میں کم عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں، زنا کے بعد قتل کردیا گیا جبکہ تیس خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ رواں سال پانچ سے زائد خواتین سے زنا کی کوشش کی گئی جس دوران ان پر تشدد کیا گیا اور کچھ کے ناک، ہونٹ کاٹے دیے گئے اور بال مونڈے گئے۔

اس سال بھی زبردستی کی شادی، گھریلو تنازعات ، پریشانیوں اور غربت سے نجات حاصل کرنے کے لئے ایک سو ترپن خواتین نے خودکشی کر لی۔

ماضی قریب میں پہلی مرتبہ ایک مسلمان لڑکی اور ہندو نوجوان کا عشق منظر عام پر آیا، جس میں حیدرآباد کے قریبی علاقے کی لڑکی وکیلاں نے ہندو نوجوان نہال کے ہمراہ گھر چھوڑ دیا مگر پولیس نے دونوں کو حراست میں لے لیا

 سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے عائد پابندی کے بعد بھی جرگوں کے انعقاد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا اور صرف کارو کاری اور خواتین کے اغوا سے متعلق نوے جرگے منعقد ہوئے

وکیلاں کی زبردستی شادی کروائی گئی مگر اس نے ایک مرتبہ پھر گھر چھوڑ دیا، جس پر اس کے رشتہ داروں نے اسے کارو کاری کے نام پر قتل کر دیا جبکہ نہال سلاخوں کے پیچھے زندگی گزار رہا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے عائد پابندی کے بعد بھی جرگوں کے انعقاد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا اور صرف کارو کاری اور خواتین کے اغوا سے متعلق نوے جرگے منعقد ہوئے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد ساٹھ تھی۔ شکارپور اور جیکب آباد میں جرگوں کے دوران کم سن بچیوں کے رشتے طے کرنے کے واقعات سامنے آئے جن میں سے جیکب آباد کے جرگے کا سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس بھی لیا۔

اس سال خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ اس سال سولہ سے زائد خواتین پر تیزاب سے حملے کیے گئے جبکہ گزشتہ سال سات خواتین پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔

دو سو سے زائد خواتین کو مختلف الزامات یا مردوں کے بدلے میں گرفتار کیا گیا جبکہ ستر سے زائد خواتین کو پولیس نے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا ۔

عورت فاؤنڈیشن کے مطابق دس سے زائد لڑکیوں نے اپنا مذہب چھوڑ اسلام مذہب قبول کیا اور پسند کی شادی کی۔ ان لڑکیوں کا تعلق ہندو، عیسائی اور احمد کمیونٹی سے تھا۔ کچھ لڑکیوں کے والدین نے یہ الزامات بھی عائد کیے کہ ان کی بیٹیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

تنظیم کی جانب سے رپورٹ تریب دینے والے پروگرام افسر محمد حسن پٹھان نے بتایا کہ سندھ میں اس سال تیس سے زائد خواتین کو فروخت کیا گیا جن میں بختاور نامی خاتون بھی شامل ہے جسے ان کے شوہر نے کاری قرار دیکر مقامی وڈیرے کے حوالے کیا اور اسے تین مرتبہ فروخت کیا گیا۔

اسی بارے میں
صلح کے لیے کم سن بچوں کا نکاح
28 December, 2006 | پاکستان
نوشہرو فیروز میں گینگ ریپ
03 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد