پندرہ بچے ماں کی شفقت سے محروم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شکارپور میں کارو کاری میں چار خواتین کو قتل کیے جانے سے پندرہ بچے اپنی ماؤں کی شفقت سے محروم ہوگئے ہیں۔ ان بچوں میں ایک سوا ماہ کی بچی بھی شامل ہے۔ عبدو کے علاقے میں بدھ کے روز تین بہنوں سمیت چار خواتین کو کاری قرار دیکر قتل کیا گیا تھا ۔قتل ہونے والی شہزادی کے آٹھ اور نسیماں کے پانچ بچے ہیں۔ جن میں ایک سوا ماہ کی بچی بھی شامل ہے جبکہ صفیہ کو دو بچے ہیں اور نسیم کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔ تین بہنوں کے بھائی اور ایک کے شوہر گلبھار نے بی بی سی کو بتایا کہ اب ان کے گھر میں کوئی ایسی عورت نہیں بچی جو انہیں اور بچوں کو کھانا پکا کر دے صرف ایک بزرگ ماں ہیں جو بیمار ہیں ۔ انہوں نے واقعے کے بارے میں بتایا کہ بدھ کی صبح وہ چائے پی کر کام پرگئے ہوئے تھے کہ پیچھے ملزموں نے حملہ کیا اور ان کے گھر اجاڑ دیے۔ ان کے مطابق فائرنگ کی آواز پر علاقے کے لوگوں نے انہیں اطلاع دی جب وہ گھر پہنچے تو صرف لاشیں پڑی ہوئیں تھیں اور ایک بھائی منٹھار زخمی حالت میں گرا ہوا تھا۔ شکارپور پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے جائیداد یا دشمنی کا کوئی عنصر نہیں ہے یہ سادہ سا سیاہ کاری کا واقعہ ہے۔
تفتیشی پولیس کے سربراہ فاروق جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ خواتین کام کاج کے لیے سکھر جاتی تھیں ۔عید سے کچھ روز قبل انہیں، ان کی برادری کے کچھ لوگوں کے ساتھ سکھر میں دیکھا گیا تھا۔ جس کا ان کے گھر والوں کو بھی پتہ چلا تھا، اور ایک لڑکی جو کہ اپنے ماموں کے گھر بیاہی گئی تھی وہ ماں باپ کے گھر آ گئی تھی۔ گلبھار نے بہنوں پر عائد الزامات کو رد کرے ہوئے کہا کہ سکھر میں ان کا کوئی رشتہ دار تو نہیں رہتا مگر وہاں دوائی لینے اور خریداری کے لیے آنا جانا ہوتا رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ماموں بضد تھے کہ وہ اپنی بہنوں کو کاری قرار دیں مگر انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ اگر میں مان بھی لیتا تو بھی یہ ہی ہوتا‘ ۔ گلبھار کے مطابق بہنوں پر سیاہ کاری کا الزام عائد ہونے کے بعد وہ سردار غوث بخش مہر ( وفاقی وزیر) کے پاس گئے تھے جنہوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا مگر ان کے لندن جانے کے بعد یہ واقعہ پیش آیا ہے۔مگر پولیس نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ پولیس افسران کے مطابق ہوسکتا کہ انہوں نے اپنی برداری کے بڑوں سے بات کی ہو مگر یہ واضح نہیں ہے۔ شکارپور کے پسماندہ علاقے عبدو میں جھونپڑی میں رہنے والے گلبھار اور ان کے دو بھائی مزدوری کرتے ہیں جبکہ ان کے ماموں مقامی زمیندار اور معاشی طور پر مستحکم ہیں۔ گلبھار کا کہنا تھا کہ وہ غریب اور ملزم بااثر ہیں، فی الحال تو وہ ظلم کرگئے ہیں اب دیکھیں قدرت ان کو کہاں پہنچاتی ہے۔
سندھ میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے مطابق گزشتہ دس ماہ میں تین سو دس افراد کو سیاہ کاری کے الزام میں قتل کیا گیا ہے۔ جن میں دو سو کے قریب خواتین ہیں۔ عورت فاؤنڈیشن کے پروگرام افسر حسن پٹھان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے قتل کو قابل معافی جرم قرار دیکر ملزموں کے لیئے راستہ کھلا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کوئی ایک قتل کرتا ہے تو اسے قانون کے تحت معاف کردیا جاتا ہے، پابندی کے باوجود جرگے ہو رہے ہیں جن میں جرمانے کی رقم بڑھا دی گئی ہے اور ایک عورت کے قتل کے بدلے میں دوسری عورت دی جا رہی ہے اور خواتین کو تحفظ نہیں مل سکا ہے۔ | اسی بارے میں کاروکاری قتل تصور ہو گا 26 October, 2004 | پاکستان کاری رات اندھاری آہے 26 November, 2005 | پاکستان غیرت کے نام پر قتل، قانون پاس 07 December, 2004 | پاکستان بچیاں دینے کی رپورٹ طلب28 June, 2006 | پاکستان کراچی میں متحدہ کی فتح ریلی17 November, 2006 | پاکستان کاروکاری: سندھ میں چار خواتین قتل29 November, 2006 | پاکستان کاروکاری کا الزام: چار خواتین قتل29 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||