BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 November, 2006, 21:33 GMT 02:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کاروکاری: سندھ میں چار خواتین قتل

این جی اوز کے مطابق کاروکاری کے الزام میں قتل کی جانے والی خواتین کی تعداد سرکاری اعدادوشمار سے دگنی ہے
شکار پور میں تین بہنوں سمیت چار خواتین کو کاری قرار دیکر قتل کیا گیا ہے۔ پولیس نے لڑکیوں کے ماموں سمیت سولہ افراد پر مقدمہ دائر کرکے دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

یہ واقعہ بدھ کوصوبہ سندھ کے شہر شکارپور کے ایک دیہی علاقے عبدو میں پیش آیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے ایوب مہر کے گھر میں داخل ہوکر فائرنگ کی جس میں ایوب کی تین بیٹیاں سترہ سالہ نسیم ، تینتیس سالہ صفیہ، چالیس سالہ شھزادی اور ان کی بہو پینتیس سالہ نسیماں ہلاک ہوگئیں۔ مزاحمت کے دوران لڑکیوں کا بھائی منٹھار زخمی ہوگیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان میں ایوب مہر کی بیٹیاں سکھر میں کسی رشتہ دار کے گھر گئیں تھیں، جس پر ان کے ماموں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کاری قرار دیا تھا۔

مقتول خواتین کے بھائی گلبہار کا کہنا ہے کہ ان کی بہنوں پر کاری ہونے کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا ہے وہ بے قصور تھیں۔

کاروکاری کو ختم کرنے کی حکومتی یقین دہانیوں کے باجود اس الزام کی زد میں آنے والی خواتین کی تعداد میں خاطر خواہ کمی نہیں ہو سکی

انہوں نے بتایا کہ الزام عائد ہونے کے بعد وہ اپنے سردار کے پاس شکایت لیکر گئے تھے جنہوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ لڑکیوں کو کچھ نہیں ہوگا مگر اس کے باوجود ان کی بہنوں کو قتل کیا گیا۔

شکارپور پولیس کا کہنا ہے کہ واردات کے بعد ملزمان فرار ہوگئے ہیں جبکہ ان کے دو بیٹوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ غیر مرد سے تعلقات رکھنے یا کاروکاری کے الزام میں ہر سال سندھ میں خواتین کی ایک بڑی تعداد قتل ہوجاتی ہے۔

صدر پرویز مشرف نے غیرت کے نام پر قتل کو عام قتل قرار دینے کا حکم دیا تھا مگر اس کے بعد بھی واقعات میں واضح کمی نہیں ہوئی ہے۔

سندھ اسمبلی میں گزشتہ دنوں صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے لیکر اگست تک ایک سو سے زائد افراد کو کارو کاری کے الزام میں قتل کیا گیا ہے، جن میں چونتیس مرد اور باقی خواتین تھیں۔

کارو کاری کے الزام میں قتل کے اکثر واقعات بالائی سندھ کے اضلاع میں ہوتے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جیکب آباد اور قمبر میں اٹھارہ افراد، شکارپور اور سکھر میں تیرہ افراد قتل کیئے گئے ہیں۔
حکومتی اعداد شمار کے برعکس این جی اوز کے مطابق کارو کاری میں قتل ہونے والوں کی تعداد دوگنا ہے۔

کارو کاری پر پہلی مقامی کارٹون فلم کاروکاری پر فلم
کارو کاری کے مسئلے پر پہلی مقامی کارٹون فلم
اسی بارے میں
’خواتین کو کیا ملا‘
09 March, 2006 | پاکستان
کوئی فرق نہیں پڑتا
15 June, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد