’پاکستانی عورتوں کے لیے فکرمند ہوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئی میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی ڈاکٹر شازیہ خالد کہتی ہیں کہ انہوں نے امریکہ میں ان کو دی گئی رقم کو لیاری میں خواتین کےایک تنظیم کو دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے کیس پر بلوچستان ہائي کورٹ کے ٹربیونل کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ کیس کی تحقیقات پاکستان میں قومی اور بین لاقوامی اراکین پر مشتمل ایک کمیشن کو کرنی چاہیے۔ یہ باتیں انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے جمعرات کے روز ایک خصوصی ٹیلیفونک انٹرویو میں کہیں- ڈاکٹر شازیہ خالد نے کہا ہے کہ عالمی برادری پاکستانی حکومت کے پاکستان میں عورتوں کے خلاف جنسی زیاتیاں روکنے کے اعلانات و اقدامات کو پرکھنے کے لیئے ایک بین الاقوامی کمیشن قائم کرنے کے لیئے پاکستانی حکومت پر دباو ڈالے- انہوں نے بدھ کے روز واشنگٹن میں کانگریس کی رکن شیلا جیکسن سمیت امریکی کانگرس کے اراکین اور محکمہ خارجہ کے سینئیر اہلکاروں سے اپنی دو الگ الگ ملاقاتوں میں ان کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے خلاف انہیں انصاف دلوانے اور پاکستان میں عورتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، تشدد اور انکے خلاف حدود آرڈیننس سمیت لاگو امتیازی قوانین کے خاتمے کے لیئے انکے کیس پر بین الاقوامی کمیشن کے قیام کے مطالبے سمیت بارہ نقاتی سفارشات امریکی اراکین کانگریس اور محکمہ خارجہ کے سینیئر عملداروں کو پیش کیں- انہوں نے بتایا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے اعلی ذمہ داروں اور اراکین کانگرس نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ پاکستان میں انہیں انصاف دلانے اورعورتوں کے خلاف تشدد اور لاگو امتیازی قوانین کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں گے- ڈاکٹر شازیہ اپنے شوہر خالد امان اللہ کے ہمراہ آجکل امریکہ کے دورے پر ہیں اور وہ جمعرات کو ریاست وسکانسن کے شہر میڈیسن سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلیفون پر بات چیت کر ررہی تھیں- انہوں نے کہا ’اگر میں تشدد و زیادتیوں کی شکار اپنی پاکستانی بہنوں کو انصاف دلانے میں کامیاب ہوگئی تو میں سمجھوں گی مجھے انصاف مل گیا۔‘ انہوں نے کہا صدر جنرل پرویز مشرف کے معاون خاص طارق عزیز نے ان سے ملاقات کے دوران کہا ’بیٹی ملک سے چلی جاؤ اور اللہ آپ کے ساتھ انصاف کرے گا- ہم جانتے ہیں آپ کا ملزم کون ہے۔‘ ڈاکٹر شازیہ نے کہا کہ اگر وہ جانتے تھے تو اب تک میرے کیس کے ملزم کو کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچایا گیا اور مجھے انصاف کیوں نہیں دیا گیا۔‘ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے اس بیان کہ ’کیپٹن حماد ان کے کیس کا ملزم نہیں تھا‘ کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈاکٹر شازیہ نے کہا ’اگر کیپٹن حماد نہیں ہے تو پھر ان کو (صدرجنرل مشرف کو) ضرور پتہ ہوگا کہ میرا ملزم کون ہے۔‘ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب بگٹی بھی کہہ رہے تھے کہ فوج کا کپتان میرا ملزم ہے تو پھر اگر ان کے پاس ایسے ثبوت تھے تو وہ بھی ثابت کرتے۔‘ ’مجھے نہیں معلوم کہ میرا حملہ آور کون تھا۔ لیکن جو بھی ہے وہ بہت طاقتور ہے جو میرے کمرے میں دیدہ دلیری سے موجود رہا اور گھنٹوں ٹیلی وژن پر انگریزی چـینل اور جیو ٹی وی دیکھتا رہا۔‘ ڈاکٹر شازیہ نے بتایا ’سوئی میں پاکستان پیٹرولیئم لیمیٹیڈ (پی پی ایل) کالونی میں بھی ڈیفیینس سروسز گروپ کے تحت سخت ترین سیکورٹی ہوتی ہے اور جب مجھ سے میرے شوہر خالد بھی ملنے آتے تھے تو ان کے آنے کے پندرہ دن پیشگی مجھے ان کی سییکیورٹی پاس بنوانا ہوتا تھا- اتنی ہائی سیکورٹی کے باوجود میرے ساتھ زیادتی کرنے والا ملزم اتنا طاقتور تو لگتا ہے جو پاکستان پیٹرولیم لمیٹیڈ نے بھی میرے کیس کی تمام گواہیاں اور شواہد مٹا دیے اور مجھے ہراساں کیا- اور اب تک پی پی ایل کے ذمہ واران کو بھی ایسی مجرمانہ غفلت پر سزا اس لیے نہیں دی گئی کہ وہ سب کچھ حکومت کی ایما پر کر رہے تھے-‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نےسوال کیا کہ پاکستان کی سینیٹ کی تحقیقاتی کمیٹی کی طرف سے بھی انکو ذمہ داران ٹھرانے کے باوجود پی پی ایل کے اعلی افسران کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ انہوں نے کہا کا انہیں اس وعدے پر وطن بدر کیا گیا کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا- اور انہیں لندن جہاز پر سوار کرایا گیا۔ ان کے گود لیے انکے بھتییجے عدنان جنہیں اسکی ماں کی دوسری شادی کرنیکے بعد انہوں نے بیٹے کے طور پرچھ سال کی عمر سے پالا پوسا ہے اسے بھی انکے ہمراہ نہیں جانے دیا گیا اور وہ اس کے لیئے تشویش میں رہتی ہیں- ’ہمارا ملک تھا، اچھی نوکریاں اور کییرئر تھے جو میرے ساتھ ہونے والی زیادتی کے المیے کی وجہ سے مجھے اور میرے شوہر کو چھوڑنا پڑے‘ - انہوں نے کہا کہ وہ وہاں پاکستانی عورتوں اور خاص طور پر لیاری اور سوئی کی نا گفتہ حالت عورتوں کےلیئے فکرمند رہتی ہیں کیونکہ وہ بطور ڈاکٹر ان علاقوں میں کام کرتی رہی ہیں- انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انہوں نے ان کی بحالی کے لیئے تنظیم ’انا‘ یعنی ’ایشین امیریکن اگینسٹ ابیوز آف ہیومن رائیٹس‘ کی طرف سےقائم کیے گئے فنڈ کی رقم اب کراچی کے علاقے لیاری میں ان کی عورت فائونڈیشن کے ساتھ جنسی و دیگر تشدد کی متاثر عورتوں کی مدد و معالجے کے لیئے قائم کیے گئے کرائيسس سینٹر کو دے دی ہے- ’ميں پاکستانی ہوں اور پاکستان کی عورتوں کے لیئے حدود آرڈیننس اور کارو کاری یا غیرت کے نام پر قتل کے قوانین و رسوم اور تشدد کے خلاف انصاف کے حصول تک لڑتی رہوں گی- ‘ انہوں نے کہا کہ ان کی مختار مائی سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن وہ انہیں ہمت اور مظلوم عورتوں کے لیئے دردمندی پر خراج تحسین پیش کرتی ہیں- انہوں نے بتایا کہ لندن میں ہیلین بیمبر فائونڈیشن کی مدد سے وہ اور ان کے شوہر خالد امان اللہ روزگار تلاش کررہے ہیں- انہوں نے کہا کہ اگر انہیں بین الاقوامی کمیشن کے ذریعے انصاف کی یقین دہانی کرائی جائے تو وہ اسی وقت وطن واپس جانے پر تیار ہیں۔ ڈاکٹر شازیہ خالد ’انا‘ اور ’ایکیولٹی‘ نامی تنظیوں کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کررہی ہیں- |
اسی بارے میں ڈاکٹر شازیہ کا پہلا ویڈیو انٹرویو09 September, 2005 | قلم اور کالم ڈاکٹر شازیہ بیرونِ ملک روانہ18 March, 2005 | پاکستان تیرہ ڈی این اے ، کوئی’میچ‘ نہیں18 February, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||