BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 May, 2006, 08:11 GMT 13:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستانی عورتوں کے لیے فکرمند ہوں‘

ڈاکٹر شازیہ خالد
ڈاکٹر شازیہ جمعہ کو شکاگو کا دورہ کر رہی ہیں جہاں وہ تنظیم ’پنا گھر‘ کی جانب سے مدعو ہیں
سوئی میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی ڈاکٹر شازیہ خالد کہتی ہیں کہ انہوں نے امریکہ میں ان کو دی گئی رقم کو لیاری میں خواتین کےایک تنظیم کو دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے کیس پر بلوچستان ہائي کورٹ کے ٹربیونل کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ کیس کی تحقیقات پاکستان میں قومی اور بین لاقوامی اراکین پر مشتمل ایک کمیشن کو کرنی چاہیے۔

یہ باتیں انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے جمعرات کے روز ایک خصوصی ٹیلیفونک انٹرویو میں کہیں-

ڈاکٹر شازیہ خالد نے کہا ہے کہ عالمی برادری پاکستانی حکومت کے پاکستان میں عورتوں کے خلاف جنسی زیاتیاں روکنے کے اعلانات و اقدامات کو پرکھنے کے لیئے ایک بین الاقوامی کمیشن قائم کرنے کے لیئے پاکستانی حکومت پر دباو ڈالے-

انہوں نے بدھ کے روز واشنگٹن میں کانگریس کی رکن شیلا جیکسن سمیت امریکی کانگرس کے اراکین اور محکمہ خارجہ کے سینئیر اہلکاروں سے اپنی دو الگ الگ ملاقاتوں میں ان کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے خلاف انہیں انصاف دلوانے اور پاکستان میں عورتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، تشدد اور انکے خلاف حدود آرڈیننس سمیت لاگو امتیازی قوانین کے خاتمے کے لیئے انکے کیس پر بین الاقوامی کمیشن کے قیام کے مطالبے سمیت بارہ نقاتی سفارشات امریکی اراکین کانگریس اور محکمہ خارجہ کے سینیئر عملداروں کو پیش کیں-

انہوں نے بتایا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے اعلی ذمہ داروں اور اراکین کانگرس نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ پاکستان میں انہیں انصاف دلانے اورعورتوں کے خلاف تشدد اور لاگو امتیازی قوانین کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں گے-

ڈاکٹر شازیہ اپنے شوہر خالد امان اللہ کے ہمراہ آجکل امریکہ کے دورے پر ہیں اور وہ جمعرات کو ریاست وسکانسن کے شہر میڈیسن سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلیفون پر بات چیت کر ررہی تھیں-

انہوں نے کہا ’اگر میں تشدد و زیادتیوں کی شکار اپنی پاکستانی بہنوں کو انصاف دلانے میں کامیاب ہوگئی تو میں سمجھوں گی مجھے انصاف مل گیا۔‘
تاہم انہوں نے اپنے ساتھ سوئی بلوچستان میں ہونےوالی مبینہ زیادتی کے خلاف انصاف حاصل کرنے والی کوششوں کو اب تک لاحاصل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انکے کیس میں گواہیوں و شواہد کو غائب کردیا گیا، اور سارے حقائق جاننے والی بلوچستان ہائی کورٹ کے قائم کردہ ٹربیونل نے ان کے ساتھ زیادتی کے ’چیف سسپیکٹ‘ یا اہم مشتبہ ملزم کو جوابدہ ٹھرانے سے اجتناب برتا اور یہاں تک کہ انکے (ڈاکٹر شازیہ کے) ٹربیونل کے سامنے دیے ہوئے بیان کو ٹربیونل کی جاری کردہ رپورٹ میں کسی اور رنگ سے پیش کیا گیا ، اور انٹیلیجنس ایجینسیوں کے پچاس سے زائد اہلکاروں نے انہیں اور ان کے شوہر کو ہر وقت ہراساں کر کے انہیں ملزم کی شناخت پریڈ سے دور رکھا اور ملک چھوڑنے پر مجبور کیا-

 ڈاکٹر سازیہ خالد کا دعوی ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے معاون خاص طارق عزیز نے ان سے ملاقات کے دوران کہا ’بیٹی ملک سے چلی جاؤ اور اللہ آپ کے ساتھ انصاف کرے گا- ہم جانتے ہیں آپ کا ملزم کون ہے۔‘

انہوں نے کہا صدر جنرل پرویز مشرف کے معاون خاص طارق عزیز نے ان سے ملاقات کے دوران کہا ’بیٹی ملک سے چلی جاؤ اور اللہ آپ کے ساتھ انصاف کرے گا- ہم جانتے ہیں آپ کا ملزم کون ہے۔‘

ڈاکٹر شازیہ نے کہا کہ اگر وہ جانتے تھے تو اب تک میرے کیس کے ملزم کو کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچایا گیا اور مجھے انصاف کیوں نہیں دیا گیا۔‘
انہوں نے کہا ’میں اور میرا سسر پولیس سے تعاون کر رہے تھے اور الٹا ایک پولیس عملدار نے مجھ پر ہی لغو الزامات لگائے اور میرے کردار پر بے بنیاد سوالات اٹھائے- مجھے حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجا‏عت کا فون آیا اور جب میں نے ان سے پولیس عملداروں کی شکایت کی تو انہوں نے کہا ’اب پولیس والے آئيں تو انہیں دو جوتے سر پار مار کر بتانا کہ مجھے چودھری شجاعت نے آپ کے سر پر جوتے مارنے کو کہا تھا-‘

 مجھے حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجا‏عت کا فون آیا اور جب میں نے ان سے پولیس عملداروں کی شکایت کی تو انہوں نے کہا ’اب پولیس والے آئيں تو انہیں دو جوتے سر پار مار کر بتانا کہ مجھے چودھری شجاعت نے آپ کے سر پر جوتے مارنے کو کہا تھا‘
ڈاکٹر شازیہ خالد

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے اس بیان کہ ’کیپٹن حماد ان کے کیس کا ملزم نہیں تھا‘ کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈاکٹر شازیہ نے کہا ’اگر کیپٹن حماد نہیں ہے تو پھر ان کو (صدرجنرل مشرف کو) ضرور پتہ ہوگا کہ میرا ملزم کون ہے۔‘

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب بگٹی بھی کہہ رہے تھے کہ فوج کا کپتان میرا ملزم ہے تو پھر اگر ان کے پاس ایسے ثبوت تھے تو وہ بھی ثابت کرتے۔‘

’مجھے نہیں معلوم کہ میرا حملہ آور کون تھا۔ لیکن جو بھی ہے وہ بہت طاقتور ہے جو میرے کمرے میں دیدہ دلیری سے موجود رہا اور گھنٹوں ٹیلی وژن پر انگریزی چـینل اور جیو ٹی وی دیکھتا رہا۔‘

ڈاکٹر شازیہ نے بتایا ’سوئی میں پاکستان پیٹرولیئم لیمیٹیڈ (پی پی ایل) کالونی میں بھی ڈیفیینس سروسز گروپ کے تحت سخت ترین سیکورٹی ہوتی ہے اور جب مجھ سے میرے شوہر خالد بھی ملنے آتے تھے تو ان کے آنے کے پندرہ دن پیشگی مجھے ان کی سییکیورٹی پاس بنوانا ہوتا تھا-

اتنی ہائی سیکورٹی کے باوجود میرے ساتھ زیادتی کرنے والا ملزم اتنا طاقتور تو لگتا ہے جو پاکستان پیٹرولیم لمیٹیڈ نے بھی میرے کیس کی تمام گواہیاں اور شواہد مٹا دیے اور مجھے ہراساں کیا- اور اب تک پی پی ایل کے ذمہ واران کو بھی ایسی مجرمانہ غفلت پر سزا اس لیے نہیں دی گئی کہ وہ سب کچھ حکومت کی ایما پر کر رہے تھے-‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نےسوال کیا کہ پاکستان کی سینیٹ کی تحقیقاتی کمیٹی کی طرف سے بھی انکو ذمہ داران ٹھرانے کے باوجود پی پی ایل کے اعلی افسران کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟

انہوں نے کہا کا انہیں اس وعدے پر وطن بدر کیا گیا کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا- اور انہیں لندن جہاز پر سوار کرایا گیا۔ ان کے گود لیے انکے بھتییجے عدنان جنہیں اسکی ماں کی دوسری شادی کرنیکے بعد انہوں نے بیٹے کے طور پرچھ سال کی عمر سے پالا پوسا ہے اسے بھی انکے ہمراہ نہیں جانے دیا گیا اور وہ اس کے لیئے تشویش میں رہتی ہیں-

’ہمارا ملک تھا، اچھی نوکریاں اور کییرئر تھے جو میرے ساتھ ہونے والی زیادتی کے المیے کی وجہ سے مجھے اور میرے شوہر کو چھوڑنا پڑے‘ -

انہوں نے کہا کہ وہ وہاں پاکستانی عورتوں اور خاص طور پر لیاری اور سوئی کی نا گفتہ حالت عورتوں کےلیئے فکرمند رہتی ہیں کیونکہ وہ بطور ڈاکٹر ان علاقوں میں کام کرتی رہی ہیں-

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انہوں نے ان کی بحالی کے لیئے تنظیم ’انا‘ یعنی ’ایشین امیریکن اگینسٹ ابیوز آف ہیومن رائیٹس‘ کی طرف سےقائم کیے گئے فنڈ کی رقم اب کراچی کے علاقے لیاری میں ان کی عورت فائونڈیشن کے ساتھ جنسی و دیگر تشدد کی متاثر عورتوں کی مدد و معالجے کے لیئے قائم کیے گئے کرائيسس سینٹر کو دے دی ہے-

’ميں پاکستانی ہوں اور پاکستان کی عورتوں کے لیئے حدود آرڈیننس اور کارو کاری یا غیرت کے نام پر قتل کے قوانین و رسوم اور تشدد کے خلاف انصاف کے حصول تک لڑتی رہوں گی- ‘

انہوں نے کہا کہ ان کی مختار مائی سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن وہ انہیں ہمت اور مظلوم عورتوں کے لیئے دردمندی پر خراج تحسین پیش کرتی ہیں-
لندن میں اپنے اور اپنے شوہر خالد امان اللہ کے جلاوطنی کے شب و روز پر انہوں نے کہا ’اپنے لوگوں اور وطن سے اپنی خواہش کے خلاف جلاوطنی بہت بری ہوتی ہے لیکن اب انہیں ریفیوجی حییثیت مل گئی ہے اور ان کے اور خالد کے اکثر اوقات اب روزگار ڈھونڈنے میں صرف ہوتے ہیں-

انہوں نے بتایا کہ لندن میں ہیلین بیمبر فائونڈیشن کی مدد سے وہ اور ان کے شوہر خالد امان اللہ روزگار تلاش کررہے ہیں- انہوں نے کہا کہ اگر انہیں بین الاقوامی کمیشن کے ذریعے انصاف کی یقین دہانی کرائی جائے تو وہ اسی وقت وطن واپس جانے پر تیار ہیں۔

ڈاکٹر شازیہ خالد ’انا‘ اور ’ایکیولٹی‘ نامی تنظیوں کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کررہی ہیں-

ڈاکٹر شازیہدوسرا راستہ نہیں تھا
ڈاکٹر شازیہ برطانیہ میں بھی ڈری ڈری ہیں۔
سوئی کیسسوئی کیس
’ڈاکٹرشازیہ، انجیکشن دے کر بیان لیا گیا‘
اسی بارے میں
ڈاکٹر شازیہ کا پہلا ویڈیو انٹرویو
09 September, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد