BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 June, 2006, 14:11 GMT 19:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بچیاں دینے کی رپورٹ طلب

رشتے
ٹھل میں تنازع حل کرنے کے لیے رشتے میں دی جانے والی بچیاں اپنے دادا کے ساتھ
پاکستان کی عدالت عظمی نے بدھ کو صوبہ سندھ کے علاقے کشمور میں جرگے کے حکم پر ونی یا بدلہ صلح کے تحت فریق مخالف کو رشتے میں دی جانے والی پانچ کمسن لڑکیوں کے رشتے منسوخ کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس واقعہ کا مقدمہ درج کر کے دو ہفتوں کے اندر عدالت میں رپورٹ پیش کرے۔ ونی کی جانے والی ان لڑکیوں میں سے ایک کی عمر بارہ ماہ اور سب سے بڑی لڑکی کی عمر پانچ سال ہے۔


سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے آج حقوق نسواں کے تحفظ کے لیئے کام کرنے والی کارکن ثمر مناللہ کی درخواست پر کشمور پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کریں اور ضرورت پڑنے پر جرگے کے ارکان یا اس ونی کے واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار بھی کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس واقعے میں جس جرگے کے حکم پر ان ایک سے پانچ سال تک کی بچیوں کو ونی کیا گیا اس کی صدارت پیپلز پارٹی کے ممبر قومی اسمبلی اور سابق وزیر میر ہزار خان بجارانی نے کی تھی۔ تاہم انہوں نے عدالت کے سامنے ان لڑکیوں کو جرگے کے حکم پر ونی کیئے جانے کی تردید کی اور کہا کہ انہوں نے اس جرگے کی صدارت ضرور کی تھی مگر اس میں ان لڑکیوں کو ونی قرار دئے جانے کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔

جرگے کیوں ہونے دیتے ہیں
 چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے چیمبر میں ہونے والی اس کارروائی میں عدالت نے ضلعی پولیس افسر پر برہمی کا اظہار کیا کہ وہ اس طرح کے جرگے کیوں ہونے دیتے ہیں اور ان جرگوں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کرتے
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری

دو بھائیوں کی ان لڑکیوں کو نو سال قبل قبائلی رسم کارو کاری کے ایک واقعے کے بعد دو قبیلوں کے درمیان ہونے والے خونی تصادم کے بدلے میں گذشتہ ماہ ونی کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے چیمبر میں ہونے والی اس کارروائی میں عدالت نے ضلعی پولیس افسر پر برہمی کا اظہار کیا کہ وہ اس طرح کے جرگے کیوں ہونے دیتے ہیں اور ان جرگوں کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کرتے۔

عدالت میں اس جرگے کے متعلق سندھ کے ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ بھی دکھائی گئی جس میں اس جرگے کی کارروائی بھی دکھائی گئی اور ونی کی جانے والی لڑکیوں کے والدین کے انٹرویو بھی۔

عدالت نے پولیس کو ہدایات جاری کیں کہ وہ جرگے کے فیصلے پر عملدرآمد رکوائیں اور ان لڑکیوں کی حفاظت کا بندو بست بھی کریں۔

سپریم کورٹ اس برس کے اوائل سے ونی کے کئی مقدمات کی سماعت کر رہی ہے جس میں صوبہ پنجاب، صوبہ سرحد اور سوبہ سندھ میں ونی کے واقعات پر ان صوبوں کے پولیس سربراہان کو پہلے ہی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کریں۔

عدالت نے اس موقع پر صوبہ سندھ کے شہر شکارپور میں گیارہ بھینسوں کے بدلے دو کمسن لڑکیوں کے رشتے دینے کے واقعے کی بھی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

جاوید اشرف قاضیوزیر کا انکشاف
ملک میں ڈیڑھ سو غیر قانونی تعلیمی ادارے
اقبال خان ونی رسم کے محافظ
ونی رسم: پولیس کارروائی سے کتراتی کیوں ہے؟
’واقعات میں اضافہ‘
ونی یا پولیس کی ’باہمی رضامندی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد