BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 June, 2006, 17:29 GMT 22:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گیارہ مویشیوں کے عوض دو پوتیاں

رشتے
ٹھل میں تنازع حل کرنے کے لیے رشتے میں دی جانے والی بچیاں اپنے دادا کے ساتھ
سندھ میں ایک شخص نےگیارہ مویشیوں کے بدلے سات اور آٹھ سالہ پوتیاں رشتےمیں دی ہیں۔
شکارپور ضلع کی تحصیل لکھی غلام شاہ کے رہائشی محمد عالم کو مویشیوں کے تاجر امداد علی نے گیارہ مویشی چرانے کے لیئے دیئے تھے جو اس نے بیچ دیئے، جس پر دونوں میں تناز عہ کھڑا ہوگیا۔

علاقے کی معززین کی جانب سے کیئے گئے فیصلے میں گیارہ مویشی کی قیمت ایک لاکھ ستر ہزار رپے مقرر کی گئی لیکن محمد عالم کے پاس رقم نہیں تھی۔

رقم نہ ہونے کی وجہ سے محمد عالم سے اس کی دو پوتیوں سات سالہ کریماں اور آٹھ سالہ ہیر زادی کے رشتے طے کیئے گئے ہیں۔
محمد عالم کے بیٹے اور بچیوں کے والد محمد رمضان نے بی بی سی کو بتایا کہ شکارپور کے وکیل آغا ثنا اللہ نے ان کے والد اور امداد علی کے درمیان تنازعے کا فیصلہ کیا تھا اور کہا تھا کہ مسجد میں جاکر رقم طے کی جائے۔

رمضان کے مطابق کلام پاک پر قسم اٹھانے کے بعد میرے والد محمد عالم کو ایک لاکھ ستر ہزار روپے ادا کرنے کو کہا گیا جو قسطوں میں دینے تھے۔

بعد میں زبردستی میرے والد سے میری بچیوں کے رشتے ایک حلف نامے پر لکھوائے گئے جبکہ میں رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔

محمد رمضان کے مطابق وہ اپنی بیٹیاں کسی صورت میں نہیں دیں گے مگر مخالف فریق دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ہم نکاح پڑھوائیں گے۔

دوسری جانب آغا ثنااللہ نے بتایا کہ انہوں نے فریقین کو مسجد میں جاکر کلام پاک پر معاملہ طے کرنے کو کہا تھا جس کے بعد فریق واپس چلے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے بچیاں دینے کا فیصلہ نہیں کیا تھا بعد میں فریقین نے اپنی برادری کے معزز یونین کونسل کے ناظم عبدالقادر سے فیصلہ کروایا ہے۔

چک کے یونین کونسل کے ناظم عبدالقادر کا کہنا ہے کہ محمد عالم نے اپنی مرضی سے اپنی بچیاں امداد علی کو دی ہیں اگر فریقین راضی ہیں تو ہم کیوں اعتراض کریں گے۔

ٹھل
وہ بچیاں جو ٹھل میں جرگے کے فیصلے کے بعد رشتہ میں دی گئی

اس واقع سے دو روز قبل جیکب آباد کے علاقے ٹھل میں ہونے والے ایک جرگے میں خون کے بدلے میں پانچ بچیوں کے رشتے دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس جرگے میں منتخب نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی۔

بنگلانی برداری کے اس جرگے میں شریک ایم این اے میر ہزار خان بجارانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے یہ فیصلہ فریقین کی باہمی رضامندی سے کیا ہے اگر ہم یہ فیصلہ نہیں کرتے تو یہ خونی تنازعہ اور بھی بڑھ سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ فیصلے میں خون کا معاوضہ مقرر کیا گیا تھا لیکن رشتہ داری فریقین کے اصرار پر بحال کی گئی ہے۔
سرداروں کے اس فیصلے پر جیکب آباد میں این جی اوز کی جانب سے مظاہرے کیئے گئے ہیں جبکہ سیاستدانوں نے بھی اس کی شدید مذمت کی ہے۔

سندھ میں دو سال قبل ہائی کورٹ نے جرگوں پر پابندی عائد کی تھی اور آئندہ جرگے منعقد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی اعلان کیا تھا۔

جرگے پر پابندی کے لیئے پٹیشن دائر کرنے والے وکیل اور انسانی حقوق کے رہنما شبیر شر کا کہنا ہے کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد بھی سندھ میں ہر روز کہیں نہ کہیں جرگہ ہو رہا ہے مگر عدالت نے کبھی ازخود نوٹس نہیں لیا۔

انہوں نے بتایا کہ پابندی کے فیصلے کے بعد ہونے والے جرگوں کو عدالت میں چیلنج کیا گیا مگر وہ مقدمات ابھی تک التوٰی کا شکار ہیں۔

ٹھل
دو اور بچیاں جو ٹھل میں جرگے کے فیصلے کے بعد رشتہ میں دی گئی

ایڈووکیٹ شبیر شر نے بتایا کہ گھوٹکی میں کاروکاری کے تصفیے کے جرگے میں ایک گیارہ سالہ اور ایک پانچ سالہ بچیاں دی گئیں اسی طرح کے ایک اور جرگے میں سات سالہ بچی کا نکاح کروایا گیا جس میں اس شحض نے فوری طور اس بچی سے ہم بستری کی اور نتیجے میں بچی شدید زخمی ہوگئی لیکن ان مقدمات کی سماعت نہیں ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹھل میں پانچ بچیوں کو ایک خون کے بدلے میں دینے کے خلاف بھی وہ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کریں گے جس میں عدالت کو متوجہ کیا جائے گا کہ اس فیصلے سے توہین عدالت ہوئی ہے جس کا نوٹس لیا جائے۔

شبیر شر کے مطابق پاکستان کا قانون کسی کو کسی کے مقدر کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیتا ہے نہ ہی کوئی شخص نجی کورٹ چلا سکتا ہے ان نکات کو بھی پٹیشن میں شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک قانون کے تحت سرداری نظام کا خاتمہ کیا گیا ہے اس قانون کے تحت کوئی بھی خود کو سردار نہیں کہلا سکتا اگر کوئی ایسا کرے گا تو اسے تین سال سزا مل سکتی ہے اس کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ آخر عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوسکا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اسمبلیوں میں وہی سردار اور جاگیردار موجود ہیں جو ایک دوسرے کا دفاع کرتے ہیں سندھ کے موجودہ اور سابق وزیر اعلیٰ خود جرگوں میں بیٹھے کر فیصلے کرچکے ہیں۔

جاوید اشرف قاضیوزیر کا انکشاف
ملک میں ڈیڑھ سو غیر قانونی تعلیمی ادارے
اقبال خان ونی رسم کے محافظ
ونی رسم: پولیس کارروائی سے کتراتی کیوں ہے؟
’واقعات میں اضافہ‘
ونی یا پولیس کی ’باہمی رضامندی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد