BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 April, 2006, 15:23 GMT 20:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نو مسلم لڑکیاں مدرسہ کے حوالے

 نو مسلم لڑکیاں
’میگزین اور ٹی وی پر اسلامی پروگرام دیکھ کر اسلام قبول کیا‘
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے تین نو مسلم لڑکیوں کو اپنی مرضی سے مدرسہ تعلیم القرآن میں رہنے کی اجازت دے دی ہے۔

سپریم کورٹ بار کے صدر ملک عبدالقیوم نے اپنی تنظیم کی طرف سے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اکیس سالہ رتنا(ندا ) ، انیس سالہ اوشا (انعم ) اور سترہ سالہ ریما (افشاں) کو مبینہ طور پر زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

کراچی میں جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس حامد علی مرزا اور جسٹس کرامت نذیر بھنڈاری پر مشتمل بنچ کے سامنے ندا، انعم اور ریما پیش ہوئیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہیں اور اب اپنی مرضی سے مدرسہ تعلیم القرآن میں رہنا چاہتی ہیں۔

مدرسے کی جانب سے تحریری طور پر لڑکیوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی جس کے بعد عدالت نے ان کو مدرسے تعلیم القرآن میں رہنے کی اجازت دے دی ہے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ والدین کو لڑکیوں سے ملاقات کی اجازت ہوگی۔

یاد رہے کہ ان لڑکیوں کے والد نے کراچی کے فریئر تھانے میں گزشتہ سال اٹھارہ اکتوبر کو اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا۔

مدرسہ تعلیم القرآن کے مہتمم مولانا شبیر احمد عثمانی نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکیوں نے خود مدرسے سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے مذہب اسلام قبول کیا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد انہوں نے کہا کہ لڑکیاں ناظرہ القرآن کی تعلیم مکمل کریں گی، اس کے بعد حدیث اور تفیسر کی تعلیم حصل کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد لڑکیوں کی شادی کا فیصلہ کیا جائے گا، ’مگر ہماری طرف سے ان پر کوئی پابندی نہیں ہوگی‘۔

دوسری جانب انعم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مدرسے میں خوش ہیں، اور مذہبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس کو پڑھانے کی خواہش رکہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کچھ میگزین اور ٹی وی پر اسلامی پروگرام دیکھے تھے جن سے ہم متاثر ہوئیں، کیونکہ اسلام میں قوائد اور ضوابط ہیں۔

انعم سے جب سوال کیا گیا کہ تینوں بہنیں اسلام کی طرف ایک ساتھ راغب کیسے ہوئیں تو انہوں نے بتایا ہم تینوں بہنیں جو بھی چیز پڑھتے اس کو شیئر کرتے تھے، جس وجہ سے تینوں اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوئیں۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آپ نے گھر کیوں چھوڑا تو ان کا کہنا تھا کہ والدین ان کی شادی ہندو لڑکوں سے کروانا چاہتے تھے، ’ جو ہمیں قبول نہیں تھا‘۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اس شادی میں ان کی مرضی شامل نہیں تھی تو انہوں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

نو مسلم لڑکیوں کے والد سنو آمرا جو اسلام آباد سے ٹرین میں واپس کراچی آرہے تھے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ انہیں تحریری طور پر جو معلومات دی گئی تھیں اس پر سماعت اسلام آباد میں ہونے کا تحریر تھا، ’جب اسلام آباد پہنچا تو بتایا گیا کہ مقدمہ کراچی منتقل ہوگیا ہے‘۔

سنو آمرا نے بتایا کہ انہیں معلوم نہیں ہے کہ ان کی لڑکیوں نے کیسے مذہب تبدیل کیا ہے۔ ان کے مطابق لڑکیوں کا برین واش کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایدھی ہوم میں انہوں نے لڑکیوں سے ملاقات کی تھی اور انہیں کہا کہ وہ گھر چلیں وہاں وہ اسلامی تعلیم حاصل کرسکتی، انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا، مگر وہ راضی نہ ہوئیں ۔

انہوں نے سوال کیا کہ آخر لڑکیاں مدرسہ تعلیم القرآن میں ہی تعلیم حاصل کرنے پر کیوں بضد تھیں جبکہ شہر میں دیگر مدرسے بھی ہیں۔

زبردستی شادی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’رینا کی منگنی کو چار سال ہوگئے ہیں یہ اب کی تو بات نہیں ،اس عرصے میں کبھی اس نے ناراضگی کا اظہار نہیں کیا‘۔

کراچی میں ایک کمپنی میں ڈرائیور سنو آمرا نے کہا کہ ’میں نے اپنی بیٹیوں کو حیثیت سے زیادہ بڑھ چڑھ کر پالا پوسا، انہیں میٹرک تک تعلیم دلوائی انہیں بیوٹی پارلر کا کورس بھی کروایا‘۔

سنو نے بھاری آواز میں کہا کہ ’میرے دو بچے ہیں میں ان کے ساتھ کیسے مدرسے میں اپنی بیٹیوں سے ملنے جاؤں گا ان پر کیا اثر ہوگا اب کمیونیٹی کے لوگ میرے بارے میں باتیں بنائیں گے‘۔

اسی بارے میں
طالب علم کی زندگی متزلزل
21 October, 2005 | پاکستان
سائیں بابا کا مزار
04 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد