کیا زبردستی مسلمان کیا گیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی عدالت اعظمیٰ نے پیر کے روز تین ہندو لڑکیوں کے مبینہ طور پر زبردستی اسلام قبول کرنے کے بارے میں کراچی کے ضلعی رابطہ افسر سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے مزید سماعت دس اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے ان لڑکیوں کے والدین کو بھی حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ درخواست سپریم کورٹ بار کے صدر ملک عبدالقیوم نے اپنی تنظیم کی طرف سے دائر کی ہے۔ اس درخواست اکیس سالہ رتنا، انیس سالہ اوشا اور سترہ سالہ ریما کے مبینہ طور پر زبردستی اسلام قبول کرنے کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ عدالت نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کراچی کے ضلعی رابطہ افسر سے تعلیم القرآن نامی دینی مدرسے کے بارے میں تفصیلی رپورٹ دینے کی ہدایت کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مدرسے میں ہی ان لڑکیوں کو مسلمان گیا تھا۔ تینوں لڑکیاں اپنے بیان میں پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ انہوں نے اپنی پسند اور رضامندی سے اسلام قبول کیا ہے۔ لیکن ان کے والدین کا خیال ہے کہ انہیں زبردستی مسلمان کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ صوبہ سندھ کے مختلف علاقوں میں جہاں ہندو آبادی اکثریت میں ہے وہاں سے وقتاً فوقتاً اس طرح کی خبریں شائع ہوتی رہی ہیں۔ | اسی بارے میں ونی کا مقدمہ، سماعت شروع24 February, 2006 | پاکستان ونی :سپریم کورٹ میں سماعت24 February, 2006 | پاکستان بھارتی ’جاسوس‘ کی سزائے موت برقرار09 March, 2006 | پاکستان شادی میں کھانا، وارنٹ جاری06 January, 2006 | پاکستان ونی: ’لڑکیوں کوتحفظ فراہم کریں‘16 December, 2005 | پاکستان ’مرضی کے خلاف بیان لیا گیا‘13 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||