BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 December, 2005, 14:52 GMT 19:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مرضی کے خلاف بیان لیا گیا‘

میو ہسپتال
میو ہسپتال میں متعدد زلزلہ زدگان زیرِ علاج ہیں
میو ہپستال میں ایک ڈاکٹر پر مبینہ جنسی زیادتی کا الزام عائد کرنے والی بیس سالہ کشمیری لڑکی نے مقامی مجسٹریٹ کے روبرو اپنے بیان میں ملزم ڈاکٹر کو بےگناہ قرار دے دیا ہے۔

اسی لڑکی سے منسوب ایک تحریری بیان پر ایک ہفتہ پہلے میو ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے خلاف حدود آرڈیننس کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا تھا اور منگل کو اسلام آباد میں مختصر سماعت کے بعد عدالت نے پنجاب پولیس کے سربراہ اور متاثرہ لڑکی کو جمعے کے روز طلب کر لیا ہے۔

بیس سالہ کشمیری لڑکی آٹھ روز تک پراسرار طورپر منظر عام سے غائب رہنے کے بعد منگل کو لاہور کی ایک مقامی عدالت میں پیش ہوئی جہاں بند کمرے میں اس کا بیان قلمبند کیا گیا۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ ایک سو چونسٹھ کے تحت عدالت میں قلمبند کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں ہوئی بلکہ لڑکی کے بقول بعض افراد نے اس کی مرضی کے خلاف تحریری بیان پر دستخط کرائے اور انگوٹھا لگوایا۔

عدالت میں ملزم ڈاکٹر کے وکیل ریحان ماہل کو بھی بلایا گیا اور انہیں جرح کرنے کی اجازت دی گئی۔ ریحان ماہل ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکی عدالت میں کھڑی تھی اور اس کی موجودگی میں مجسٹریٹ نے کہا کہ وہ چاہیں تو جرح کر سکتے ہیں۔

وکیل نے جرح کے لیے بیان مانگا تو ان کے بقول مجسٹریٹ نے انہیں آگاہ کیا کہ لڑکی اپنے بیان میں ملزم ڈاکٹر کو بےگناہ قرار دے چکی ہے جس پر ملزم ڈاکٹر کے وکیل نے جرح سے انکار کر دیا۔

اس دوران ایک دوسری عدالت نے ملزم ڈاکٹر کو چودہ روز کے لیے عدالتی تحویل میں جیل بھجوا دیا ہے۔ ڈاکٹر کے وکیل اب ضمانت کی درخواست دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس لڑکی کے مبینہ تحریری بیان پر چھ دسمبر کی رات پولیس نے میو ہپستال کے ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا تھا لیکن اس کے بعد یہ لڑکی منظر عام سے ہٹ گئی اس دوران اس نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ایک بار بھی براہ راست بات نہیں کی جس کے بعد وہ آج وہ اچانک عدالت پیش ہوئی ہے۔

عدالت کے ایک سوال کےجواب میں لڑکی نے ایف آئی آر کے اندراج کے بعد میں اپنی گمشدگی کی وضاحت دیتے ہوۓ کہا کہ اس کی والدہ کی طبعیت خراب تھی اس لیے وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر چلی گئی تھی۔

لاہور کے مختلف سرکاری ہپستالوں میں چھ سو کے قریب زلزلہ زدگان اب بھی زیر علاج ہیں اور مظفر آباد کی رہائشی لڑکی بھی انہی میں سے ایک ہے۔

اسی بارے میں
ریپ کیس، ملزم ڈاکٹر گرفتار
07 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد