BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 December, 2006, 03:01 GMT 08:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صلح کے لیے کم سن بچوں کا نکاح

صنم گل
جرگے نے صنم کو بہن کے بدلے نکاح میں دیئے جانے کا فیصلہ سنایا ہے
سندھ کے علاقے ٹنڈو آدم کے ایک نوجوان امام بخش بگھیو نے اپنی کم سن بہن کے ساتھ کراچی میں پناہ لی ہیں کیونکہ اس کے بقول جرگے نے اس کی پانچ سالہ بہن کا نکاح ایک چار برس کے لڑکے سے کرنے کو کہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق نکاح کے لیے عید کا دوسرا روز مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نکاح سے انکار کردیا ہے اور اپنی بہن کو لے کر کراچی آگئے ہیں جس کے بعد انہیں اور ان کی بہن کی زندگی کو خطرہ ہے۔

امام بخش بگھیو نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف اور حقوق نسواں کی تنظیموں سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

امام بخش نے بتایا: ’ فیصلے میں ہم پر یہ مسلط کیا گیا کہ ہم اپنی معصوم بہن صنم کا نکاح ماسٹر پنھل کے چار سالہ بیٹے ماجد علی سے کریں گے اور یہ فیصلہ وڈیرے محمد خان جونیجو کے لیٹر ہیڈ پر تحریر کیا گیا۔‘

جرگے کا فیصلہ
 فیصلے میں ہم پر یہ مسلط کیا گیا کہ ہم اپنی معصوم بہن صنم کا نکاح ماسٹر پنھل کے چار سالہ بیٹے ماجد علی سے کریں گے اور یہ فیصلہ وڈیرے محمد خان جونیجو کے لیٹر ہیڈ پر تحریر کیا گیا۔
امام بخش

دوسری جانب بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد خان جونیجو نے اس فیصلے کو درست قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے کوئی زبردستی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

امام بخش بگھیو نے بی بی سی کو بتایا کہ انیس سو پچانوے میں ان کی ماسٹر پنھل کی بیٹی عائشہ سے شادی ہوئی تھی اس کے بدلے میں ان کی بہن کا رشتہ ماسٹر پنھل کے بیٹے عابد علی کو دیا گیا تھا۔ آگے چل کر عابد علی نے ان کی بہن سے یہ کہہ کر شادی کرنے سے انکار کردیا کہ لڑکی کا رنگ سانولا ہے وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ جس پر انہوں نے اپنی بہن کی شادی کسی اور جگہ طے کردی۔

امام بخش کے مطابق ان کی بہن کے نکاح کے وقت ماسٹر پنھل پولیس لے کر پہنچ گئے اور دعویٰ کیا کہ لڑکی کا نکاح پہلے ہوچکا ہے۔ پولیس انہیں گرفتار کر کے لےگئی۔

صنم اپنے بھائی امام بخش کےساتھ

امام بخش نے بتایا کہ پولیس سے جان چھڑانے کے لیے انہوں نے علاقے کے وڈیرے اور سابق ایم این اے محمد خان جونیجو سے مدد کی درخواست کی جنہوں نے پولیس سے رہا کروایا اور فیصلہ کرنے کو کہا۔

امام بخش نے تحریر شدہ فیصلے کی نقل بھی دکھائی جس میں کہا گیا ہے کہ دھنی بخش اور محمد پنھل کا فیصلہ وڈیرے محمد خان جونیجو اور مفتی امان اللہ بروہی کے روبرو طے پایا ہے، محمد پنھل کے بیٹے عابد علی کو دھنی بخش نے اپنی بیٹی کا رشتہ دیا تھا جو اس نے ٹھکرا دیا تھا ۔ اس کے بدلے میں دھنی بحش اپنی چھوٹی بیٹی گل صنم جس کی عمر تین سال ہوگی، وہ محمد پنھل کے بیٹے ماجد علی کو دے گا۔

تحریری فیصلے کے مطابق فیصلہ دونوں فریقین نے خوشی سے قبول کیا۔

جبکہ امام بخش کا کہنا ہے کہ انہوں دباؤ میں آکر اس فیصلے پر دستخط کئے تھے مگر وہ بار بار وڈیرے سے کہتے رہے کہ یہ فیصلہ نہ کیا جائے کیونکہ وہ ساری زندگی اپنی بہن کی آنکھوں میں شرمندہ ہوتے رہیں گے۔

دوسری جانب بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد خان جونیجو نے اس فیصلے کو درست قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے کوئی زبردستی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

محمد خان جونیجوکا کہنا ہے کہ وہ سردار نہیں لوگوں کے امین ہیں جو ان میں صلح صفائی کرواتے ہیں اور یہ کہ چھوٹے بڑوں اور وٹے سٹے کی شادیاں سندھ کا رواج ہیں ۔

فریقین کی رضامندی
 دونوں فریق قریبی رشتہ دار ہیں اور بات گھروں میں طلاق تک پہنچ گئی تھی۔ فریقین نے انہیں کہا کہ صلح کی بات کرو۔ دھنی بخش والوں نے کہا کہ ان کے پاس ایک چھوٹی بچی ہے اگر پنھل والوں کے پاس چھوٹا بچہ ہے تو وہ اسے یہ رشتہ دینے کو تیار ہیں جس کے بعد یہ رشتہ طے ہوا ہے۔
محمد خان جونیجو

انہوں نے کہا کہ دونوں فریق قریبی رشتہ دار ہیں اور بات گھروں میں طلاق تک پہنچ گئی تھی۔ فریقین نے انہیں کہا کہ صلح کی بات کرو۔ دھنی بخش والوں نے کہا کہ ان کے پاس ایک چھوٹی بچی ہے اگر پنھل والوں کے پاس چھوٹا بچہ ہے تو وہ اسے یہ رشتہ دینے کو تیار ہیں جس کے بعد یہ رشتہ طے ہوا ہے۔

محمد خان جونیجو کے مطابق محمد پنھل والوں کا کہنا تھا کہ فیصلہ تحریر کیا جائے، کل کو یہ منحرف ہوجائیں، بچی جوان ہو تو نہ دیں، اس لئے نکاح کیا جائے۔ ’میں نے انہیں مشورہ دیا کہ یہ شرعی معامعلہ ہے اس لئے کسی مولوی سے معلوم کیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کو ایک ماہ سے زیادہ عرصے گزرگیا ہے اس کے بعد انہیں کچھ معلوم نہیں۔ اور یہ کہ انہوں نے کوئی دباؤ نہیں ڈالہ ہے اگر دونوں فریق راضی نامہ کرتے ہیں تو کریں ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا سندھ میں یہ رواج ہے کہ بچوں کے فیصلے اور رشتے ماں باپ کرتے ہیں۔ ’یہ شرعی حق ہے۔ نوجوان نسل کو اللہ سمجھائے یہ اپنے آپ کو پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں۔ انہیں بڑوں کا احترام نہیں ہے۔ تھوڑا بہت پڑھ گئے ہیں وہ خود کو عقل مند سمجھتے ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد