سرحد: غیرت کے نام پر قتل نظر انداز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع دیر بالا میں گزشتہ دنوں ایک جرگے کی جانب سے غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات درج نہ کرنے کے فیصلے کی سیاسی و مذہبی جماعتوں اور حقوق نسواں کی تنظیموں نے ہفتے کے روز مذمت کرتے ہوئے اعلٰی عدالتوں سے ازخود اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ صوبہ سرحد کے پہاڑی ضلع دیر بالا کے علاقے نہاگ درہ کے عمائدین، مقامی ناظمین اور سیاستدانوں نے گزشتہ دنوں غیرت کے نام پر قتل کو جائز قرار دیتے ہوئے اس قسم کے واقعات کے مقدمات درج نہ کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ پائندہ خیل قوم کے اس جرگے نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف ازخود کارروائی کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔ اس فیصلے پر تشویش قدرتی عمل تھا۔ مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے علاوہ حقوق نسواں کے لیئے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں مل بیٹھ کر اس جرگے کے فیصلے پر عمل درآمد رکوانے کے لیئے لائحہ عمل پر غور کیا۔ عورت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام آج کے اجلاس میں اکثر اہم سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تاہم مسلم لیگ ق اور ن کے نمائندے اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ حکمراں جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اپنے خطاب میں جرگے کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اس کی وجہ تعلیم کی کمی اور حکومت کی کمزوری کو قرار دیا جس سے بقول ان کے مذہب کی بدنامی بھی ہوتی ہے۔ متحدہ مجلس عمل کی خواتین اراکین اسمبلی نے جرگے کے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ جے یو آئی کی رکن سرحد اسمبلی نعیمہ کشور کا کہنا تھا کہ اس جیسے فیصلوں سے خواتین کی تذلیل ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی کی رکن صوبائی اسمبلی زبیدہ اقبال نے ان جرگوں کے اس قسم کے فیصلوں کی وجوہات سزاؤں کا بروقت نہ ملنا، اسلامی قوانین کا مکمل نفاذ نہ ہوا، ذرائع ابلاغ کے ذریعے نوجوان نسل کی بے راہ روی اور مناسب وقت پر بچوں کی شادیاں نہ کرانا قرار دیا۔
دیر کے ایک وکیل محمد رشید کا کہنا تھا کہ اس قسم کے جرگوں کے فیصلے بے معنی ہوتے ہیں۔ ’یہ جرگے نام نہاد مشیران پر مشتمل ہوتے ہیں جن کا عام آدمی اثر نہیں لیتا‘۔ اے این پی کے حاجی محمد عدیل کا موقف تھا کہ حدود آرڈیننس غلطیوں سے بھرا ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے افسوس کیا کہ اس میں ترامیم کی مذہبی جماعتیں مخالفت کرتی ہیں۔ انہوں نے مجرموں کے بچ جانے کی ایک وجہ ولی کو بھی قرار دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اگر قاتل کا ولی بھی وہی ہو جو مقتول کا ہے تو ایسے میں اس ولی کو معاف کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی اس شق کا فائدہ اٹھا کر عورتوں کے قاتل رہا ہوجاتے ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے ایک متفقہ قرار داد منظور کی جس میں صوبائی حکومت سے اس جرگے میں شریک ناظمین اور کونسلروں کے نا اہلی کے نوٹس جاری کرنے، اعلٰی عدالتوں سے از خود نوٹس لینے اور اراکین اسمبلی سے اس معاملے کو اپنے اپنے ایوانوں میں اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ | اسی بارے میں غیرت: قانون میں تبدیلی ضروری24 November, 2005 | پاکستان بیٹیوں کا قاتل گرفتار، مقدمہ درج25 December, 2005 | پاکستان پاکستان: 2006 کا پہلا ’غیرت قتل‘04 January, 2006 | پاکستان پنچایت کے فیصلہ دو خواتین اغوا06 March, 2006 | پاکستان ’خواتین کو کیا ملا‘09 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||