BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 December, 2005, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیٹیوں کا قاتل گرفتار، مقدمہ درج

پولیس
پولیس قتل کی اس واردات کا چالان خصوصی عدالت میں پیش کرے گی
غیرت کے ’تصور‘ کے تحت وہاڑی کے علاقے گگو منڈی میں اپنی چار بیٹیوں کو ذبح کرنے والے شخص کے خلاف پولیس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

وہاڑی کے ضلعی پولیس افسر مختار احمد ٹکا نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم نذیر احمد کےخلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ سنہ انیس سو ستانوے کی دفعات چھ اور سات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس قتل کی اس لرزہ خیز واردات کا چالان خصوصی عدالت میں پیش کرے گی تاکہ ملزم کو جلد از جلد سزا دلائی جا سکے۔

نذیر احمد نے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب اپنی چار بیٹیوں چوبیس سالہ مقدس، بارہ سالہ بانو، نو سالہ سمیرا اور پانچ سالہ حمیرا کے گلے ٹوکے کی مدد سے کاٹ کر قتل کردیا تھا۔

تھانہ گگو منڈی کے اہلکاروں کے مطابق صبح چھ بجے واردات کی اطلاع پانے پر جب وہ ملزم کےگھر پہنچے تو وہ چولہے کے پاس بیٹھا آگ تاپ رہا تھا۔ پولیس کو دیکھتے ہی اس نے کہا ’میں نے برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے‘۔

مقتولہ مقدس کی شادی تین برس قبل ہوئی تھی لیکن کچھ روز پیشتر اس کے شوہر اللہ دتہ نے اس پر بدچلنی کا الزام لگا کر اسے طلاق دے دی تھی۔ ملزم نذیر کو اس بات پر شدید غصہ تھا کہ مقدس کی وجہ سے اس کی ’بے عزتی‘ ہوئی ہے۔

گرفتاری کے بعد تھانہ گگومنڈی کے حوالات میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ملزم کا کہنا تھا کہ چھوٹی بیٹیوں کو اس نے اس خدشے کے تحت مار دیا کہ بڑی ہو کر کہیں وہ بھی اپنی بڑی بہن کے ’نقش قدم‘ پر نہ چل نکلیں۔

ملزم نذیر علاقے کی غلہ منڈی میں بار برداری کر کے روزی کماتا تھا۔نوافراد پر مشتمل یہ کنبہ انتہائی غربت میں زندگی گزار رہا تھا۔

مقدس ملزم کی سوتیلی بیٹی تھی۔ نذیر کی شادی اس کے بھائی منظور کی بیوہ رحمت مائی سے کی گئی تھی۔ پہلی شادی سے رحمت مائی کی اولاد میں مقدس کے علاوہ ایک بیٹا غلام محی الدین بھی ہے۔ محی الدین اور اس کا سوتیلا بھائی غلام شبیر ایک دینی مدرسے میں زیر تعلیم ہونے کی وجہ سے قتل کی واردات کے وقت گھر پر موجود نہ تھے جبکہ ان کا شیر خوار بھائی جگنو ماں کے پاس تھا جسے ملزم نے کچھ نہ کہا۔

حالیہ دنوں میں وہاڑی سے خواتین پر مظالم کے حوالے سے کافی خوفناک واقعات سامنے آئے ہیں۔ میلسی کے علاقے میں پچاس پچپن سالہ ایک شخص نے تقریباً اسی عمر سے تعلق رکھنے والی اپنی بیوی نسیم کی ٹانگ اس لیے ٹوکے کے وار کر کے جسم سے علحیدہ کر دی کہ وہ گھر سے باہر نہ جاسکے۔ ملزم کاٹی ٹانگ اٹھائے کافی دیر تک گھر کے دروازے پر کھڑا رہا اور اسی حالت میں اس کی تصویریں بعض اردو اخبارات میں شائع ہوئیں۔ اسی طرح ایک خاتون شمیم کے شوہر اور سسر نے اس کی زبان اس لیے کاٹ دی کہ اس نے کسی مسئلے پر ان کے ساتھ مبینہ طور پر تکرار کی تھی۔

اسی بارے میں
غیرت کے نام پر قتل پر فلم
25 November, 2005 | پاکستان
غیرت: قانون میں تبدیلی ضروری
24 November, 2005 | پاکستان
’غیرت کے نام پر‘ ایک اور قتل
08 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد