BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 September, 2005, 07:55 GMT 12:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوہستان میں جعلی غیرت کے نام پر قتل

غیرت کے نام پر قتل
پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں
پاکستان میں ہر سال سینکڑوں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ عموماً یہ سمجھا جاتا کہ یہ واقعات صوبہ سندھ یا جنوبی پنجاب میں ہوتے ہیں۔

تاہم صوبہ سرحد کے ایک ضلع کوہستان میں جس کی وجہ شہرت اس کی قدامت پسندی ہے، خاندانی دشمنی یا پیسے کے لین دین کے جھگڑے میں مخالفین کو قتل کرکے گھر آکر اپنی ہی بہن، بیٹی یا بھابھی کو قتل کر دیا جاتا ہے اور سزا سے بچنے کے لئے اس کو غیرت کے نام پر قتل کا رنگ دیا جاتا ہے۔

کوہستان جہاں ناخواندگی،غربت اور غلط رسم و رواج عام ہیں، ہر برس درجن بھر خواتین کو اسطرح ’غیرت کے نام پر قتل‘ قرار دیا جاتا ہے۔اس بارے میں کوہستان کے سینیئرسول جج خالد خان مہمند نے بتایا کہ کوہستان میں عورت کے ساتھ انتہائی درجے تک ظلم روا رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوہستان میں جعلی غیرت کے نام پر قتل کیے جاتے ہیں۔یہ ایسے ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کے ساتھ پیسوں کے لین دین پر جھگڑا ہے یا اس کی کسی سے ذاتی دشمنی ہے تو وہ پہلے اس شخص کو مارتا ہے اور پھر گھر آکر اپنی بیوی یا بہن یا بھابھی کو مارتا ہے اور بتاتا ہے کہ مرنے والے شخص کے قتل ہونے والی کے ساتھ نا جائز تعلقات تھے اور میں نے اس کو قتل کر دیا۔ اس پر سارے کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے کہ جو شخص مارا گیا ہے اس کے قاتل کی بیوی،بہن یا بھابھی کے ساتھ نا جائز تعلقات تھے جس کی وجہ سے اس شخص نے یہ قتل کیے‘۔

سول جج کے مطابق کوہستان کی عدالتوں میں زیادہ تر مقدمے جس میں عورت قتل ہوتی ہے جعلی غیرت کے نام پر قتل کے ہوتے ہیں۔

خالد خان نے بتایا کہ قتل کے ان واقعات میں راضی نامے ہو جاتے ہیں کیونکہ قاتل یا تو شوہر ہوتا ہے یا بھائی اور اس کے والدین اسے معاف کر دیتے ہیں اور قاتل سزا سے بچ نکلتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر حصوں خصوصاً شہروں میں تو عورتوں کے حقوق کے تحفظ کی بات بھی کی جاتی ہے مگر کوہستان میں عورتوں سے وہ کام بھی لئے جاتے ہیں جو دیگر علاقوں میں صرف مرد ہی کرتے ہیں مثلا جنگل سے لکڑیاں کاٹنا اور کھیتوں میں کام کرنا وغیرہ۔

سول جج کےمطابق عورتیں اگر بیمار ہو جائیں تو ان کے علاج پر توجہ نہیں دی جاتی۔ خالد خان کے مطابق اس علاقے میں زیادہ تر خواتین ٹی بی کا شکار ہو جاتی ہیں جبکہ یہ مرض پاکستان کے دیگر حصوں میں ختم ہو رہا ہے۔

کوہستان بار ایسو سی ایشن کے رکن ممتاز خان جالکوٹی کے مطابق ان واقعات میں ابھی تک کئی برسوں میں صرف ایک شخص کو سزا ملی ہے۔

سرکاری وکیل عبدالوکیل نے بتایا کہ اس علاقے میں علماء نے مذہب کے نام پر عورتوں کے حقوق سلب کیے ہوئے ہیں۔ عبدالوکیل کا کہنا تھا کہ ان علماء نے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے بارے میں مشہور کیا ہوا ہے کہ وہ فحاشی پھیلاتی ہیں اور وہ یہود و نصاریٰ کی ایجنٹ ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی تنظیم اس علاقے میں نہیں آتی۔

عبدالوکیل کے مطابق اس علاقے میں قدامت پسند رسم ورواج اس قدر جڑ پکڑ چکے ہیں کہ اس علاقے کے لوگ عورتوں کے حقوق کے بارے میں کوئی بات سننے یا ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

کوہستان کا علاقہ پسماندگی اور غربت میں ملک کے دیگر اضلاع سے بہت پیچھے ہے اور نہ تو صوبائی اور نہ ہی قومی سطح پر ابھی تک اس علاقے میں ترقیاتی کاموں یا لوگوں کی تعلیم اور فلاح و بہبود پر کوئی توجہ دی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد