باپ کے ہاتھوں چار بیٹیوں کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے ضلع وہاڑی کے علاقے گگومنڈی میں ایک شخص نے اپنی چار بیٹیوں کو مبینہ طور پر اس لیے قتل کر دیا ہے کہ ان میں سب سے بڑی بہن کو اس کے شوہر نے ’برے کردار‘ کا الزام لگا کر طلاق دے دی تھی۔ نذیر احمد نے اپنی بیٹیوں کو جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب تیز دھار آلے کی مدد سے اس وقت گلے کاٹ کر ہلاک کردیا جب وہ سب نیند میں تھیں۔ حکام کو شبہ ہے کہ ملزم نے بیٹیوں کو قتل کرنے سے قبل انہیں کوئی نشہ آور چیز کھانے کو دی ہوگی۔ وہاڑی کے ضلعی پولیس افسر مختار احمد ٹکا کے مطابق ملزم کی بڑی بیٹی جس کی عمر چوبیس سال بتائی جا رہی ہے کی شادی کچھ برس قبل ہوئی تھی لیکن بعد میں اس کے شوہر نے اس کے کردار پر شک کرتے ہوئے اسے طلاق دے دی تھی۔ وہ تب سے اپنے ماں باپ کے گھر رہ رہی تھی۔ محنت مزدوری کرنے والے نذیر احمد کو اپنی بیٹی کی شادی اس الزام کے تحت ختم ہونے کا شدید رنج تھا۔ ملزم نے بیٹیوں کو قتل کرنے سے پہلے مبینہ طور پر اپنی بیوی کو ایک کمرے میں بند کردیا جبکہ اس نے اپنے بیٹوں جن کی عمریں چار سال اور دو سال بتائی جارہی ہیں کو بھی کچھ نہیں کہا۔ نذیر نے اپنی بڑی بیٹی کے علاوہ جن تین دیگر بیٹیوں کو بے دردی سے قتل کیا ہے ان کی عمریں بارہ سال ، نو سال اور پانچ سال بتائی جاتی ہیں۔ تھانہ گگو منڈی کے ایک اہلکار کے مطابق پولیس کو واقعہ کی اطلاع صبح ہونے پر نذیر کے ایک ہمسائے نے دی۔ اہلکار کے مطابق نذیر نیم پاگل حالت میں آلہ قتل سمیت موقع پر ہی موجود تھا۔ ملزم کو حراست میں لینے کے بعد پولیس نے اس کی بیوی کو مدعیہ بناتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ قتل ہونے والی چاروں بہنوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے عزیزوں کے حوالے کر دی گئی تھیں۔ لڑکیوں کی ماں کے بارے بتایا جا رہا ہے کہ وہ بھی اپنے حواس کھو بیٹھی ہے۔ | اسی بارے میں حقوقِ نسواں: ماں بیٹی ہلاک 07 July, 2005 | پاکستان انقلاب کی بیٹی28 June, 2005 | فن فنکار مختار مائی اور غیر سرکاری تنظیمیں26 June, 2005 | پاکستان ونی: ’لڑکیوں کوتحفظ فراہم کریں‘16 December, 2005 | پاکستان مفتی عتیق قتل، دو ملزم گرفتار 30 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||