BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 June, 2005, 15:04 GMT 20:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انقلاب کی بیٹی

کاملہ شمسی کی کتاب
انگریزی زبان میں لکھنے والی پاکستانی مصنفہ کاملہ شمسی کی نئی کتاب ’بروکن ورسز‘ یعنی ’شکستہ شاعری ‘ کو ان کی پہلی پختہ نطر کتاب کہا جا سکتا ہے۔

بالآخر شمسی نے ایسی کتاب لکھی ہے جس میں لڑکپن نہیں ہے۔ ماضی میں ان کی کتابیں ایسی تھیں کہ یہ ہی واضح نہیں ہوتا تھا کہ یہ بڑوں کے لیے لکھی گئیں ہیں یا کہ نوجوانوں کے لیے۔

زبان پر ان کا عبور اور ان کا اسلوب تکنیکی اعتبار سے تو بہت عمدہ ہے لیکن اس سے پہلی کتابوں سے یہ تاثر ملتا تھا کہ ان میں زندگی کے اصل دکھ کا گہرا احساس نہیں تھا چجہے وہ کتنے ہیں تلخ موضوعات پر لکھ رہی ہوں۔ پہلی کتاب کا مرکزی کردار ایک گیارہ سالہ لڑکا تھا، دوسری کا مرکزی کردار ایک نوجوان لڑکی تھی اور تیسری کتاب میں بچپن کے دوست اور ساتھ بڑھنے والے دو نو جوان تھے۔

شمسی کے تمام ناول کراچی کے بارے میں ہیں۔ ان کہانیوں میں لوگ بیرون ملک جاتے ہیں، ملازمت کے لیے یا پڑھنے کے لیے لیکن وہ پلٹ کر کراچی آتے ہیں کیونکہ یہی ان کا مرکز رہتا ہے۔

کاملہ شمسی
یہ کاملہ شمسی کا چوتھا ناول ہے

کراچی کے علاوہ کاملہ شمسی کی کہانیوں میں سیاسی ماحول اور سیاسی تاریخیواقعات کی بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ پہلے ناول ’دی سِٹی بائی دی سی‘ میں حسن کے ایک رشتہ دار کو فوجی حکمران نے گھر میں نظر بند کر رکھا ہوتا ہے اور یہی فوجی آمر ملک کے علاوہ ٹیلی وژن پر بھی چھایا ہوتا ہے۔

دوسرا ناول ’سالٹ اینڈ سیفرون‘ تھا جس میں تقسیم ہند میں ایک خاندان کے تقسیم ہونے کی کہانی ہے، جبکہ تیسری کتاب ’کارٹوگرافی‘ میں مشرقی پاکستان کی خانہ جنگی کے بعد پرانی دوستیوں اور پکے رشتوں کے ٹوٹنے کی کہانی ہے۔ اب شمسی کی نئی کتاب میں ایک شاعر کی خفیہ اداروں کے ہاتھوں ہلاکت اور آمریت کے خلاف انقلابی جد و جہد کی ناکامی کو کہانی کا پس منظر بنایا گیا ہے۔

 چودہ سال گزر جاتے ہیں۔ آسمانی کراچی میں ایک ٹی وی چینل میں کام کرنا شروع کرتی ہے۔ لیکن پھر اچانک اس کو ایک خط ملتا ہے، جو ایک مخصوص کوڈ میں مکتوب ہے جس کا علم صرف آسمانی، اس کی ماں اور شاعر کو ہی تھا۔ کیا آسمانی کی ماں زندہ ہے؟ کیا شاعر کو کہیں خفیہ طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ کیا آسمانی اپنا ذہنی توازن کھو رہی ہے؟ یہ تمام سوالات کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں

’بروکن ورسز‘ میں مرکزی کردار آسمانی انقلاب نامی ایک خاتون ہے۔ اس کو یہ انمول نام اس کی اوالدہ نے دیا تھا جو کہ سماجی اور سیاسی حقوق کی ایک سرگرم کارکن تھیں اور جنہوں نے آمریت کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ جیل بھی کاٹی اور مار بھی کھائی۔ ماں کے محبوب اور کتاب میں ’شاعر‘ کہلانے والے بھی انقلابی شاعری کرتے تھے۔

آسمانی کا بچپن ان دونوں کے ساتھ ادب، انقلاب اور انصاف کی بحث مباحثےمیں گزرتا ہے۔ وہ ایک آمرانہ فوجی حکومت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں آواز بلند کرتے رہتے ہیں لیکن بالآخر شاعر کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان کی لاش ایک خالی پلاٹمیں ملتی ہے۔ لاش پر تشدد کے نشانات ہیں، دانت نکال دیے گئے ہیںہوتا ہے، ہڈیاں توڑ دی گئی ہوتی ہیں، چہرہ نا قابل شناخت حد تک مسخ کر دیا گیا ہوتا ہے۔

اپنے محبوب اور رفیق کے قتل کے بعد آسمانی کی والدہ بالکل ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے اور وہ بھی ایک دن سمندر کا رُخ کر کے اس طرح سمندر میں اترتی ہے کہ کبھی لوٹتی نہیں۔

چودہ سال گزر جاتے ہیں۔ آسمانی کراچی میں ایک ٹی وی چینل میں کام کرنا شروع کرتی ہے لیکن پھر اچانک اس کو ایک خط ملتا ہے، جو ایک مخصوص کوڈ میں ہے جس کا علم صرف آسمانی، اس کی والدہ اور شاعر کو ہی تھا۔ کیا آسمانی کی ماں زندہ ہے؟ کیا شاعر کو کہیں خفیہ طور پر حراست میں رکھا گیا ہے؟ کیا آسمانی اپنا ذہنی توازن کھو رہی ہے؟ یہ تمام سوالات کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔

کتاب میں دکھایا گیا ہے کہ آسمانی کے دکھ نے اس کو ان تمام ایسی سرگرمیوں سے دور رکھا جنہیں اس کی ماں اپنا اخلاقی اور سماجی فرض سمجھتی تھیں۔ وہ سیاست اور سماجی انصاف کے مسائل میں دلچسپی نہیں لیتی بلکہ اس کی زندگی کا کوئی خاص مقصد نہیں ہوتا۔ وہ کبھی ایک بڑی تیل کی کمپنی میں ملازم ہو تی ہے تو کبھی ایک نجی ٹی وی چینل میں۔ پاکستان کی نئی نسل کی طرح اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ آرام اور گلیمر کی زندگی گزارے اور اسے سیاست یا سماجی ذمہ داری جیسے موضوعات پر غور نہ کرنا پڑے۔

 آسمانی کا دکھ اور اس سے نمٹنے کا اس کا طریقہ ایک طرح سے پاکستان کے سیسای تجربے کی عکاسی کرتا ہے۔ جس ملک میں گیارہ سال تک ایک فوجی آمر حکمرانی کر لے اور ان گیارہ سال کے بعد بھی فوج ہی متعدد کٹھپتلیوں کے ذریعے راج کرے، اس میں کچھ مسائل تو ہونگے۔ شائد پاکستان بھی آسمانی کی طرح ایک انتھائی تکلیف دہ دور کے بعد اسے بھولنے اور اس سے دور بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے

آسمانی کا دکھ اور اس دکھ سے نمٹنے کا اس کا طریقہ ایک طرح سے پاکستان کے سیاسی تجربے کے رد عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ جس ملک میں گیارہ سال تک ایک فوجی آمر حکمرانی کر لے اور ان گیارہ سال کے بعد بھی فوج ہی متعدد کٹھپتلیوں کے ذریعے راج کرے، اس میں کچھ مسائل تو ہونگے۔ شاید پاکستان بھی آسمانی کی طرح ایک انتہائی تکلیف دہ دور کے بعد اسے بھولنے اور اس سے دور بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آسمانی سوچتی ہے کہ اس کی ماں اور شاعر کی جد وجہد سے انہیں حاصل کیا ہوا، تشدد، غم اور مایوسی اور آسمانی کے لیے بھی وہ دکھ اور رنج ہی چھوڑ گئے۔ اسی طرح پاکستان کی عوام بھی جمہوریت کے لیے ایک طویل جد و جہد کے بعد شاید یہ سوچتے ہوں کہ ان کوششوں سے صرف دکھ اور تشدد ہی ملے گا، اسی سے تو اچھا ہے کہ خود غرضی کی راہ اپنا لی جائے۔

کاملہ شمسی کو کئی ادبی اعزازات سے نوزا گیا ہے اور یہ ان کی چوتھی کتاب ہے لیکن ’بروکن ورسز‘ ان کی واحد کتاب ہے جس کی کہانی یادگار ہو سکتی ہے اور جس میں جذبات کا انتہائی چھوتا ہوا اور محسوس ہوتا ہوااظہار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد