BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 November, 2005, 15:25 GMT 20:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیرت کے نام پر قتل پر فلم

اس ڈاکیومینٹری میں میڈیا، این جی اوز اور حکومت کے کردار کو بھی زیر غور لایا گیا ہے۔
پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے موضوع پر ایک ڈاکیومینٹری فلم بنائی گئی ہے۔ پندرہ منٹ کے دورانیے کی اس فلم شیم (شرم) کا اسکرپٹ اختیار احمد نے لکھا ہے جبکہ ڈائریکشن خالد احمد کی ہے۔

خواتین کے خلاف تشدد کے عالمی دن پر یہ دستاویزی فلم برٹش کاؤنسل کی جانب سے نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے عنوان سے ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں دکھائی گئی۔

شیم میں منتخب عوامی نمائندگان۔ سماجی کارکنان، وکلا، صحافیوں اور سرداروں کے علاوہ عام لوگوں کے خیالات بھی فلمبند کئے گئے ہیں۔ اور غیرت کے نام پر قتل پر بحث کی گئی ہے۔

اس ڈاکیومینٹری میں میڈیا، این جی اوز اور حکومت کے کردار کو بھی زیر غور لایا گیا ہے۔

لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والی وکیل کلپنا دیویکا کہنا ہے کہ ’مرد ایک گھر میں دو دو بیویوں کیساتھ رہ سکتا ہے۔ اس کو کوئی کچھ نہیں کہتا آج تک کسی عورت نے ایسی صورتحال میں کسی مرد کو کارو قرار دیکر قتل نہیں کیا۔ میں تو کہتی ہوں کہ عورت کو بھی ایسی غیرت میں آکر ایک مرد کا قتل کردینا چاہئے۔‘
کلپنا کہ مطابق مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی عورت کو شک کی بنیاد پر قتل کردو۔ ’ہمارے یہاں ہر مسئلے کو مذہب کا تڑکا لگاکر پیش کیا جاتا ہے۔‘

کلپنا کی موقف کی جماعت اسلامی کے رہنما مولانا اسدللہ بھٹو بھی حمایت کرتے ہیں ان کے مطابق مذہب کسی کو کسی کے قتل کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ہے۔
پروفیسر امر سندھو کا موقف ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کسی کلچر کا حصہ نہیں ہے۔ اس کا سبب معاشی یا اور کوئی مفاد ہوتا ہے۔

سندھ اسمبلی کے ممبر سسی پلیجو کے نزدیک نام نہاد غیرت کے نام پر خواتین کو جائیداد یا کسی سے بدلے لینے کے لئے قتل کیا جاتا ہے۔اسی طرح پنجاب کے احمد پور کے ڈاکٹر سعید کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں کسی مخالف پر عورت کیساتھ تعلقات کا الزام لگایا جائیگا۔ جس سے عورت بھی مل جائیگی اور چٹی بھی۔ یہ پریکٹس عام ہے۔

انسانی حقوق کے رہنما ضیا اعوان کی رائے ہے کہ نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ان علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں سرداری اور جاگیرداری نظام زیادہ مضبوط ہے۔اور کوئی قانون نہیں ہے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے سردار ہمت کماریو اس رائے کو رد کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ ہیں جو ہمیں بدنام کرتے ہیں کہ سردار ایسے واقعات کرواتے ہیں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

نوجوان صحافی کالم نویس نثار کھوکھر کے مطابق شکارپور اور گھوٹکی میں سرداروں کے کوٹ ہیں جس کے سرونٹ کمروں میں کسی الزام میں آنے والی لڑکیوں کو رکھا جاتا ہے۔ ان کی حیثیت بھی ایک نوکر جیسی ہوتی ہے۔ جبکہ جرگوں میں فیصلے کئے جاتے ہیں۔

جسٹس (ر) اسلم زاہد کا کہنا ہے کہ عدالت نے جرگوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ جبکہ گزشتہ سال سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس رحمت اللہ جعفری نے بھی فیصلہ دیا ہے کہ جرگے غیر قانونی ہیں مگر اس فیصلے کے بعد بھی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق جرگے ہورہے ہیں جس میں سرداروں کے علاوہ حکومتی عملدار بھی شریک ہیں۔

دستک کمیونیکیشن کی اس تخلیق نے اس موضوع پر مثبت بحث کے لئے ایک دستاویز بنائی ہے۔ جس کی ابتدا ایک عام دیہات سے ہوتی ہے تو اختتام کراچی میں حقوق نسوان کی تنظیموں کی ریلی پر ہوتی ہے۔ جس کے پس منظر میں اقبال بانو فیض احمد فیض کی نظم ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکہیں گے گا رہی ہیں۔

66کاریوں کا قبرستان
خصوصی ویڈیو: ’دوسری دنیا میں بھی تنہا‘
66ایک قبیح قبائلی رسم
کارو کاری تہذیب کے منہ پر تازیانہ: حسن مجتبٰی
66غیرت کے نام پر
چھ سال میں چار ہزار افراد سے زائد ہلاک
اسی بارے میں
غیرت: قانون میں تبدیلی ضروری
24 November, 2005 | پاکستان
’غیرت کے نام پر‘ ایک اور قتل
08 September, 2005 | پاکستان
’غیرت‘ کے نام ایک اور قتل
01 August, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد