غیرت کے نام پر قتل پر فلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے موضوع پر ایک ڈاکیومینٹری فلم بنائی گئی ہے۔ پندرہ منٹ کے دورانیے کی اس فلم شیم (شرم) کا اسکرپٹ اختیار احمد نے لکھا ہے جبکہ ڈائریکشن خالد احمد کی ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کے عالمی دن پر یہ دستاویزی فلم برٹش کاؤنسل کی جانب سے نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے عنوان سے ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں دکھائی گئی۔ شیم میں منتخب عوامی نمائندگان۔ سماجی کارکنان، وکلا، صحافیوں اور سرداروں کے علاوہ عام لوگوں کے خیالات بھی فلمبند کئے گئے ہیں۔ اور غیرت کے نام پر قتل پر بحث کی گئی ہے۔ اس ڈاکیومینٹری میں میڈیا، این جی اوز اور حکومت کے کردار کو بھی زیر غور لایا گیا ہے۔ لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والی وکیل کلپنا دیویکا کہنا ہے کہ ’مرد ایک گھر میں دو دو بیویوں کیساتھ رہ سکتا ہے۔ اس کو کوئی کچھ نہیں کہتا آج تک کسی عورت نے ایسی صورتحال میں کسی مرد کو کارو قرار دیکر قتل نہیں کیا۔ میں تو کہتی ہوں کہ عورت کو بھی ایسی غیرت میں آکر ایک مرد کا قتل کردینا چاہئے۔‘ کلپنا کی موقف کی جماعت اسلامی کے رہنما مولانا اسدللہ بھٹو بھی حمایت کرتے ہیں ان کے مطابق مذہب کسی کو کسی کے قتل کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ہے۔ سندھ اسمبلی کے ممبر سسی پلیجو کے نزدیک نام نہاد غیرت کے نام پر خواتین کو جائیداد یا کسی سے بدلے لینے کے لئے قتل کیا جاتا ہے۔اسی طرح پنجاب کے احمد پور کے ڈاکٹر سعید کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں کسی مخالف پر عورت کیساتھ تعلقات کا الزام لگایا جائیگا۔ جس سے عورت بھی مل جائیگی اور چٹی بھی۔ یہ پریکٹس عام ہے۔ انسانی حقوق کے رہنما ضیا اعوان کی رائے ہے کہ نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ان علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں سرداری اور جاگیرداری نظام زیادہ مضبوط ہے۔اور کوئی قانون نہیں ہے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے سردار ہمت کماریو اس رائے کو رد کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ ہیں جو ہمیں بدنام کرتے ہیں کہ سردار ایسے واقعات کرواتے ہیں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ نوجوان صحافی کالم نویس نثار کھوکھر کے مطابق شکارپور اور گھوٹکی میں سرداروں کے کوٹ ہیں جس کے سرونٹ کمروں میں کسی الزام میں آنے والی لڑکیوں کو رکھا جاتا ہے۔ ان کی حیثیت بھی ایک نوکر جیسی ہوتی ہے۔ جبکہ جرگوں میں فیصلے کئے جاتے ہیں۔ جسٹس (ر) اسلم زاہد کا کہنا ہے کہ عدالت نے جرگوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ جبکہ گزشتہ سال سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس رحمت اللہ جعفری نے بھی فیصلہ دیا ہے کہ جرگے غیر قانونی ہیں مگر اس فیصلے کے بعد بھی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق جرگے ہورہے ہیں جس میں سرداروں کے علاوہ حکومتی عملدار بھی شریک ہیں۔ دستک کمیونیکیشن کی اس تخلیق نے اس موضوع پر مثبت بحث کے لئے ایک دستاویز بنائی ہے۔ جس کی ابتدا ایک عام دیہات سے ہوتی ہے تو اختتام کراچی میں حقوق نسوان کی تنظیموں کی ریلی پر ہوتی ہے۔ جس کے پس منظر میں اقبال بانو فیض احمد فیض کی نظم ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکہیں گے گا رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں غیرت: قانون میں تبدیلی ضروری24 November, 2005 | پاکستان ملتان: ’غیرت کے نام پر‘ تین قتل24 September, 2005 | پاکستان ’غیرت کے نام پر‘ ایک اور قتل08 September, 2005 | پاکستان ’غیرت‘ کے نام ایک اور قتل 01 August, 2005 | پاکستان پسند کی شادی: میاں بیوی قتل18 May, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||