BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 October, 2006, 05:12 GMT 10:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: روزانہ اکیس خود کشیاں

پاکستانی وکلا کی انسانی حقوق کمیٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں اس سال کے پہلے نو مہینوں میں پانچ ہزار آٹھ سو افراد نے خود کشی کی۔ یوں ملک میں ہر روز اوسطا اکیس سے زیادہ لوگ مختلف وجوہ کی بنا پر اپنی زندگی ختم کرلیتے ہیں۔

یہ اعداد و شمار وکلا کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کی جنوری سے ستمبر سنہ دو ہزار چھ تک پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر جاری کی گئی رپورٹ میں دیے ہیں۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں سٹریٹ کرائم بڑھ رہا ہے اور ہر دن ڈھائی ہزار موبائل فون اور گاڑیاں چھننے کے تین سو واقعات ہوتے ہیں۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ سٹریٹ جرائم کی شرح سب سے زیادہ کراچی میں ہے۔

پانچ ہزار دو سو بیاسی افراد ہلاک
 پہلے نو ماہ کے دوران میں ملک بھر میں پانچ ہزار دو سو بیاسی افراد ہلاک ہوئے جبکہ تین سو پچاسی لوگ پولیس کے ہاتھوں مقابلوں اور حوالاتوں میں ہلاک ہوئے

رپورٹ کا کہنا ہے کہ پہلے نو ماہ کے دوران میں ملک بھر میں پانچ ہزار دو سو بیاسی افراد ہلاک ہوئے جبکہ تین سو پچاسی لوگ پولیس کے ہاتھوں مقابلوں اور حوالاتوں میں ہلاک ہوئے۔

لائیرز کمیٹی برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق اس مدت میں ملک میں پانچ ہزار آٹھ سو افراد نے بھوک، غربت، گھریلو جھگڑوں اور مایوسی کی بنا پر خود کشی کی۔

کمیٹی کا کہنا ہےکہ ملک بھر میں دو ہزار ایک سو عورتوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور تین ہزار ایک سو بچوں کو جنسی طور پر بدفعلی یا ہراساں کرنے کے واقعات پیش آئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کی ستاسی جیلوں میں نوے ہزار قیدی ہیں جو ان کی گنجائش سے بہت زیادہ ہیں۔

وکلا کمیٹی کے مطابق ملک بھر میں دو سو سے زیادہ لوگ گمشدہ ہیں جنہیں ریاستی اداروں نے اغوا کیا۔ان لوگوں میں مذہبی تنظیموں کے ارکان اور بلوچ افراد شامل ہیں۔

دو ہزار ایک سو جنسی زیادتیادتیاں
 دو ہزار ایک سو عورتوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور تین ہزار ایک سو بچوں کو جنسی طور پر بدفعلی یا ہراساں کرنے کے واقعات پیش آئے

کمیٹی کا کہنا ہے کہ شبہ ہےکہ ریاستی ایجنسیوں نے ان افراد کو اپنی تحویل میں لیا۔ وکلاکی تنظیم کے مطابق نواب اکبر بگتی کی ہلاکت کے بعد حکومتی اداروں نے چھ ہزار افراد کو حراست میں لیا جن میں سے اکثریت کو بعد میں رہا کردیا گیا لیکن سو افراد اب تک حراست میں ہیں۔

کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اس سال ملک میں پندرہ ہزار لوگ غیر قانونی طور پر داخل ہوئے اور انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔

وکلا کمیٹی کے مطابق اس سال ستمبر تک اکیس صحافیوں کے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔

اسی بارے میں
رپورٹ جانبدارانہ ہے: حکومت
22 September, 2006 | پاکستان
’بش مشرف پر دباؤ ڈالیں‘
25 February, 2006 | پاکستان
جیل: سینیٹ کمیٹی کی تشویش
07 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد