’پاکستان انسانی حقوق کا پاس کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ عالمی امدادی اداروں کو حکومتِ پاکستان کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کا پاس کرنے پر زور دینا چاہیے۔ پاکستان میں جمعہ کو عالمی امدادی اداروں کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں زلزلے کے متاثرین کی بحالی کے لیے امداد کے بارے میں غور کیا جائے گا۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ مظفر آباد میں حال ہی میں متاثرین کے ایک کیمپ پر ’پولیس کے لاٹھی چارج‘ سے اس بات کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ تنظیم نے بدھ کو ایک پریس ریلیز میں کہا کہ پولیس نے گیارہ نومبر کو مظفر آباد میں زلزلے کے متاثرین کے ایک اجتماع کو توڑنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ دو سو کے قریب یہ متاثرین ایک عارضی کیمپ سے اپنے انخلاء کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے کسی سے زبردستی کیمپ خالی کرانے سے انکار کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اسے لوگوں نے بتایا کہ گزشتہ جمعہ کو پولیس نے الصبح آ کر جلال آباد کیمپ میں لوگوں کو شام تک وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا۔ تنظیم نے کہا ہے کہ پولیس کی طرف سے مظاہرے کو ختم کروانے کی کوشش میں بچوں سمیت کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ حکام نے بعد میں کیمپ خالی کروانے کا حکم واپس لے لیا تھا اور صرف چند لوگ وہاں سے گئے تھے۔ بیان میں پیر کے روز پاکستان میں ایلکٹرانک ذرائع ابلاغ کے لیے ریگولیٹری تنظیم پیمرا پر بھی تنقید کی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ پیمرا نے بی بی سی کے تین پارٹنروں کو بی بی سی اردو سروس کے زلزلے کے بارے میں خصوصی طور پر پیش کردہ پروگرام نشر کرنے سے روک دیا ہے۔ تیس منٹ کے دورانیے کے یہ پروگرام دن میں دو بار سنائے جاتے تھے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پیمرا کے حکام نے درجنوں پولیس اہلکاروں کی مدد تنظیم نے کہا کہ امدادی اداروں کو حکومت پر واضح کرنا چاہیے کہ امدادی کارروائیوں کے بارے میں رپورٹنگ روکنے کی کوششیں برداشت نہیں کی جا سکتیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ امدادی کارروائیوں میں سویلین اداروں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ تنظیم نے امدادی اداروں سے فراخ دلی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ ہیومن رائٹس واچ نے یہ بھی کہا کہ امدادی کارروائیوں کے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت، سیاسی جماعتوں ، ملکی اور عالمی این جی اوز اور شہری اداروں کو بھی شریک کیا جانا چاہیے۔ | اسی بارے میں زلزلہ، سردی: مزید ہلاکتوں کا خدشہ 14 November, 2005 | پاکستان ’دنیانےرقم نہ دی تو خود بندوبست کریں گے‘16 November, 2005 | پاکستان مانسہرہ میں قیمتیں تیز ہوگئیں16 November, 2005 | پاکستان زلزلہ سے میڈیا بری طرح متاثر16 November, 2005 | پاکستان امریکی وفد مظفرآباد میں14 November, 2005 | پاکستان آٹھ لاکھ بچوں کے لیے حفاظتی ٹیکے12 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||