BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 November, 2005, 18:51 GMT 23:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی وفد مظفرآباد میں

کیرن ہیوز
کیرن ہیوز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے
امریکہ کی خیر سگالی کی سفیر اور تین ممتاز کاروباری شخصیات نے پیر کو پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کا دورہ کیا ہے

اس دورے کا مقصد مزید امداد کی ضرورت کا براہ راست جائزہ لینا تھا۔

اس وفد کے مظفرآباد جانے کا فیصلہ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو جارج بش نے کیا تھا تا کہ جس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی ہےاس کے بارے میں بہتر آگاہی پیدا ہو اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا سکے کہ رہائش، خوراک، صحت، صفائی اور علاج معالجے کی ضروریات کتنی شدید ہیں۔

اس وفد میں امریکہ کی عوامی سفارت کاری اور تعلقات عامہ کی انڈر سیکریڑی کیرن ہیوز کے علاوہ تین ممتاز کاروباری شخصیات بھی شامل تھیں۔

کیرن ہیوز نے مظفرآباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر تندہی سے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم پاکستان کو دی جانے والی امداد کے سب سے بڑے حصہ دار ہیں اور یہ کہ ورلڈ فوڈ پروگرام ، ورلڈ بنک اور دیگر ایـجینسیز کی امداد میں بھی ہمارا حصہ سب سے زیادہ ہے‘۔

کیرن ہیوز نے فیلڈ ہسپتال کا دورہ بھی کیا

کرین ہیوز نے مزید کہا کہ امریکہ کی نائب وزیرِ خارجہ کرسٹینا روکا اس ہفتے اپنے دوروں کے دوران دوسری اقوام پر زور دیتی رہیں کہ وہ اپنی کوششیں تیز کریں اور امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیوں کہ اس ہولناک تباہی سے نبٹنے کے لیے طویل مدتی امداد کی ضرورت ہوگی۔

امریکی وفد نے مظفرآباد شہر کے قریب لڑکیوں کے تباہ ہونے والے ایک ہائی اسکول کا بھی دورہ کیا۔ اس اسکول کی چوراسی طالبات زلزلے میں ہلاک ہوگئی تھیں۔ اب یہ اسکول یو ایس ایڈ کی طرف سے فراہم کیے جانے والے دو بڑے خیموں میں قائم کیا گیا ہے۔اس کے علاہ یہ وفد مظفرآباد شہر میں قائم امریکی فیلڈ ہسپتال میں بھی گیا جہاں انہوں نے ادویات کا عطیہ بھی دیا۔

امریکی حکومت نے زلزلے کے متاثرہ علاقوں میں امداد اور تعمیر نو کے لیے ایک سو چھپن ملین ڈالر مختص کیے ہیں لیکن زلزلہ متاثرین کے لیے امریکہ کے نجی شعبے کی طرف سے امداد سونامی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

اب تک ایک اندازے کے مطابق امریکی اداروں نے زلزلہ متاثرین کے لیے ستر ملین ڈالر کی امداد دی ہے جبکہ سونامی کے متاثرین کے لیے انہی اداروں کی طرف سے اب تک دی جانے والی امداد ڈیڑھ بلین ڈالر ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد