BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 November, 2005, 13:54 GMT 18:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اوپر سے حکم آئےگا تو بچہ ملےگا‘

پمز میں داخل بچہ
زلزلے کے بعد پمز میں سینکڑوں زخمی بچوں کو لایا گیا تھا
آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے بعد اپنے ورثاء سے بچھڑ جانے والے اٹھارہ بچے ایسے بھی ہیں جن کے والدین تو مل گئے ہیں لیکن ’اوپر‘ سے حکم نہ ملنے کے باعث وہ ان کے ساتھ نہیں جا سکتے۔

اسلام آباد کے پمز ہپستال میں موجود گیارہ سالہ الطاف ایسے ہی بچوں میں شامل ہے۔ الطاف کو زلزلے کے بعد تیرہ تاریخ کو زخمی حالت میں مظفرآباد سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا۔

الطاف کے والد عبدالخالق نے چار دن کی مسلسل بھاگ دوڑ کے بعد الطاف کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے بچوں کے وراڈ میں تلاش کر لیا مگر اب الطاف کا علاج ختم ہوجانے اور ہسپتال کی طرف سے ڈسچارج سلپ بن جانے کے باوجود وہ اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے۔

عبدالخالق نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کے چھ اور بچے بھی ہیں جو مظفر آباد سے پچیس کلو میٹر دور گھوڑی کے علاقے میں بے آسرا پڑے ہیں اور وہ اپنے بڑے بچے کی وجہ سے اسلام آباد میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔

عبدالخالق نے اپنا شناختی کارڈ اور اپنے بچے کا ب فارم دکھاتے ہوئے کہا کہ ان دستاویزات کی متعلقہ اداروں سے تصدیق کی جاچکی ہے لیکن پھر بھی انہیں نہیں جانے دیا جا رہا۔

بچوں کے لواحقین ان کے ہمراہ ہسپتال میں رہنے پر مجبور ہیں

بچوں کے اسی وارڈ میں چار سالہ فیاض بھی داخل ہے جو سارا دن وراڈ میں اپنے حال اور مستقبل سے بےخبر دوڑتا بھاگتا رہتا ہے۔ فیاض کے والد ممتاز بھی گزشتہ دو ہفتوں سے ہسپتال میں رہنے پر مجبور ہیں۔ فیاض کی والدہ اور ایک بھائی زلزلے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

فیاض کے والد نے کہا کہ وہ جب بھی ہپستال والوں سے اپنے بچے کو لیے جانے کی اجازت مانگتے ہیں تو انہیں ایک ہی جواب ملتا ہے کہ’اوپر سے آڈر نہیں ہے‘۔

بچوں کے وارڈ کے ڈائریکٹر انجم جاوید نے بتایا کہ اتنی بڑی عمر کے بچے اپنے ماں باپ یا دوسرے رشتے داروں کو آسانی سے پہچان سکتے ہیں لیکن پھر بھی انہیں جانے نہیں دیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں اکیس لاوارث بچےتھے جن میں سے اٹھارہ کے ورثاء آ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال نے ان بچوں کے ورثاء کی تصدیق کے لیے دس بچوں کے کیس بھجوائے تھے جن میں سے چار کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ باقی بچوں کے کیسوں کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی سے جب اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بچوں کی حفاظت کی خاطر رجسٹریشن کے محکمے نادرہ سے ان کی دستاویزات کی تصدیق کرائی جا رہی ہے اور اس کے بعد ہی ان بچوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نےکہا کہ جن کیسوں کی تصدیق ہو چکی ہے ان کو جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

اسی ہپستال میں تین بچے ایسے بھی ہیں جنہیں لینے ابھی تک کوئی نہیں آیا۔ ان کی خالی خالی آنکھوں سے انتظار جھلکتا ہے۔ اگر ان بچوں کو لینے کوئی نہیں آیا تو شاید یہ کبھی اپنے گھروں کو نہ لوٹ سکیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد