BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 September, 2006, 10:34 GMT 15:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رپورٹ جانبدارانہ ہے: حکومت

 سینیٹر طارق عظیم
ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے سامنے آنے پر سینیٹر طارق عظیم نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کی (فائل فوٹو)
حکومت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حقوقِ انسانی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کو تعصبانہ اور جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

وزیرِ مملکت برائے اطلاعات سینیٹر طارق عظیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ صرف اندازوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے اور اس میں دی گئی معلومات صحیح نہیں۔

آئی ایس آئی کی جانب سے جہادی تنظیموں کی پشت پناہی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے دہشت گردی کا مخالف رہا ہے اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کسی ممنوعہ تنظیم کو سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

’اگر کوئی باریش شخص انفرادی طور پر کسی امدادی سرگرمی میں شرکت کرتا ہے تو اس بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جہادی تنظیموں نے سرانجام دیں۔‘

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں الیکشن لڑنے یا سرکاری عہدے کےحصول کے لیئے نظریۂ الحاقِ پاکستان کے حلف سے متعلق ایک سوال پر وزیرِ مملکت نے کہا کہ کشمیر کا اپنا آئین اور اپنی قانون ساز اسمبلی ہے جسے حکومتِ پاکستان کی جانب سے کسی دباؤ کا سامنا نہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے سامنے آنے پر سینیٹر طارق عظیم نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس بھی کی جس میں انہوں نے اس رپورٹ کی تیاری میں شامل افراد کی غیرجانبدرانہ حیثیت کو چیلنج کیا۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے رپورٹ کے اس دعوے کو بھی غلط قرار دیا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے دراندازی کا سلسلہ جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بارہا یہ کہتا رہا ہے کہ ایل او سی کے دونوں جانب اقوامِ متحدہ کے مبصرین تعینات کیئے جائیں لیکن انڈیا نے ہمیشہ اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔

وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ کشمیر میں میڈیا بالکل آزاد ہے اور اس سلسلے میں ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ غلطیوں کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ رپورٹ کے مطابق کشمیر میں اخبارات اور پریس کا وجود نہیں جبکہ درحقیقت کشمیر سے نو اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ سینیٹر طارق عظیم کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ہونے والے حالیہ انتخابات مکمل طور پر شفاف تھے اور کسی ایسی جماعت کو انتخابات میں شرکت سے نہیں روکا گیا تھا جو آئینی تقاضے پوری کرتی تھی۔

یاد رہے کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے جمعرات کو پاکستان کے زیِرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں اس علاقے میں پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے کردار، جہادی تنظیموں کے اثر و رسوخ اور خود مختار کشمیر کے حامی افراد کو درپیش مشکلات پر بھی روشنی ڈالی گئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد