BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک وہند وویمن بزنس کونسل قائم
تاجر خواتین
مشترکہ بزنس کونسل دونوں ممالک میں امن اور سلامتی کے لیے بھی کام کرے گی
تجارت سے وابستہ پاکستان اور ہندوستان کی خواتین تنظیموں نے مشترکہ بزنس کونسل بنانے کا اعلان کیا ہے اور باہمی تعاون کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

پاکستان وومین چیئمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سربراہ بیگم سلمیٰ احمد اور فیڈریشن آف انڈین وومین انٹر پری نیور کی صدر رجنی اگروال نے کراچی میں بدھ کو اس یادداشت نامے پر دستخط کیے۔

یادداشت نامے کے مطابق مشترکہ بزنس کاؤنسل کے تحت دونوں تنظیمیں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے وفود کا تبادلہ کریں گی۔ بزنس وومین کا ماہانہ نیوز لیٹر اور رابطہ ڈائریکٹری شائع کی جائےگی۔

ایسے منصوبوں کی نشاندہی کی جائےگی جو بزنس وومین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔ دونوں ممالک میں مشترکہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا جائےگا۔

یادداشت نامے کے مطابق مشترکہ بزنس کونسل دونوں ممالک میں امن اور سلامتی کے لیے بھی کام کرے گی اور سارک میں وومین کونسل فار ٹریڈ اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ بنانے کی لیے بھی کوشش کی جائے گی۔

فیڈریشن آف انڈین وومین انٹری پرینیور کی صدر رجنی اگروال کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ہندستان کا معاشرتی اور ثقافتی پس منظر ایک ہی ہے اس طرح مسائل اور ان کا حل بھی ایک ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بزنس وومین ہندوستان کی بزنس وومین کی کامیابیوں سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق مرد اپنے فائدے کے لیے کاروبار کرتا ہے مگر عورت خاندان کے لیے کاروبار کرتی ہے۔

رجنی اگروال نے بتایا کہ ہندوستان میں خواتین کی کامیابی میں مرد مددگار ثابت ہوا ہے کیونکہ ذہنی تبدیلی کی ضرورت ہے جب تک مرد کا ذہن تبدیل نہیں ہوگا عورت کچھ نہیں کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی حکومت نے بھی حقیقت پسندانہ سوچ کا مظاہرہ کیا ہے کہ خواتین کو نظر انداز کرکے پالیسیاں بنائی نہیں جاسکتی ہیں اس لیے پاکستان حکومت کو بھی اس پر غور کرنا چاہیئے۔

پاکستان کی وومین چیئمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیف ایگزیکٹو
بیگم سلمیٰ احمد کا کہنا تھا پاکستان میں مرد بزنس وومین کی ترقی میں مددگار ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ ان کی تنظیم کو تین سال کے بعد رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
آزادانہ تجارت پر اتفاق
03 January, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد