اجتماعی زیادتی کے ملزمان کی شناخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو پولیس نے اوباوڑو میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی نسیمہ لبانو کو سول جج اوباوڑو اسلام الحق کی عدالت میں پیش کیا، جہاں ان کا بیان قلم بند کیا گیا اور ملزماں کی شناخت کرائی گئی۔ نسیمہ لبانو پولیس پہرے میں اپنی والدہ کے ساتھ عدالت پہنچیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں گھر سے گیارہ افراد نے اغوا کیا اور ایک گھر کی بیٹھک میں لے گئے جہاں دو افراد عبدالستار اور انور نے ان سے زیادتی کی جبکہ دیگر ملزم اس کے جسم کو ہاتھ لگا لگا کر قہقہے لگاتے رہے۔ نسیمہ نے بتایا کہ ان کی چیخ و پکار پر پڑوس کی خواتین آگئیں جس کے بعد ملزمان نے انہیں برہنہ چھوڑ دیا، عورتوں نے ان پر اپنے دوپٹے ڈالے کر گھر پہنچایا۔ تفتیشی پولیس افسر آفتاب فاروقی نے بی بی سی کو بتایا کہ نسیمہ نے عدالت میں چھ گرفتار ملزماں کی شناخت کی۔ عدالت میں گواہوں سردار علی اور جمال الدین نے بھی نسیمہ کے بیان کی تائید کی۔ پولیس کے مطابق ملزماں کا مزید چھ دن کا ریمانڈ لیا گیا انہیں اب تیرہ فروری کو عدالت میں پیش کیا جائےگا۔ واضح رہے کہ میڈیکل رپورٹ میں بھی سولہ سالہ نسیمہ سے زیادتی کی تصدیق کی گئی ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نسیمہ دو ماہ کی حاملہ ہے۔ اس بارے مقامی اخبارات سے بات کرتے ہوئے نسیمہ نے کہا ہے کہ اس سے قبل بھی اس سے زیادتی کی گئی تھی مگر وہ خوف میں خاموش رہی، پولیس کا کہنا ہے کہ اس بیان کی روشنی میں بھی تحقیقات کی جاری ہیں۔ پولیس ابھی تک چھ ملزماں کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے، جس کے بارے میں تفتیشی پولیس کا کہنا ہے میڈیا میں یہ اشو آنے کے بعد ملزماں فرار ہیں پولیس ان کے بارے میں حاصل کر رہی ہے۔ | اسی بارے میں اجتماعی زیادتی پر عوامی احتجاج31 January, 2007 | پاکستان خطا کاالزام چچا پر اور سزا بھتیجی کو24 September, 2006 | پاکستان ’حدود بل پر پسپائی اختیار نہیں کی‘20 September, 2006 | پاکستان پانچ افراد کو سزائے موت، مدعی منحرف06 July, 2006 | پاکستان پولیس: ملزم بہنوں سے جنسی زیادتی16 June, 2006 | پاکستان ’حکومت کا رویہ بدل گیا ہے‘05 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||