اجتماعی زیادتی پر عوامی احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے شہر اباوڑو میں ایک لڑکی سے اجتماعی زیادتی اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف منگل کو شہریوں نے احتجاج کیا اور دھرنا دیکر قومی شاہراہ کو بلاک کردیا اور اندرون ملک سے سندھ آنے والی گاڑیوں کو گزرنے نہیں دیا۔ پولیس کے مطابق اوباڑو کے قریب گاؤں حبیب لبانو میں ستائیس جنوری کو گیارہ افراد نے حمزہ لبانو نامی ایک مزدور کے گھر میں داخل ہوکر اس کی نوجوان بیٹی کو اغوا کرلیا تھا اور ایک بیٹھک میں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثر لڑکی کو سکھر سول ہسپتال کی انتظامیہ نے پیر کی شب طبی امداد دیکر واپس گھر بھیج دیا، مگر ایک مقامی این جی او کے رہنما عیسٰی بھٹو کا کہنا ہے کہ نسیمہ کی طبعیت میں بہتری نہیں آئی تھی لیکن اس کے باوجود ہسپتال انتظامیہ نے انہیں فارغ کر دیا ہے۔ سکھر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر حضور بخش کا کہنا ہے کہ لڑکی کے جسم پر خراشیں تھیں اور اس نے کمر درد کی شکایت کی تھی، جس کا علاج کیا گیا اور صحت یاب ہونے کے بعد ہی اسے فارغ کیا گیا ہے۔ اوباڑو پولیس نےگیارہ میں سے چھ ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، تاہم شہری اور سیاسی جماعتوں نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ منگل کو پاکستان پیپلز پارٹی اور قوم پرست جماعتوں کے علاوہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے اوباڑو میں جلوس نکالا اور ٹائر جلائے۔ شہریوں نے ایک گھنٹہ تک قومی شاہراہ پر دھرنا دیا جس کی وجہ سے ٹریفک معطل ہوگئی۔ دھرنے کے دوران بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے عیسیٰ بھٹو کا کہنا تھا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ اس دردناک واقعے میں ملوث تمام ملزمان گرفتار کیے جائیں اور انہیں سخت سزائیں ملیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں بااثر لوگ ملوث ہیں اور پولیس مکمل طور پر ملزمان کا ساتھ دے رہی ہے ۔ عیسٰی بھٹو نے کہا کہ وہ پولیس تفتیش سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے لوگ زیادتی کرتے ہیں اور بعد میں جرگے میں عزت کا معاوضہ طے کیا جاتا ہے جو نہیں ہونا چاہیئے۔ اوباڑو تھانے میں درج ایف آئی آر میں سولہ سالہ نسیمہ لبانو کے والد حمزہ لبانو نے الزام عائد لگایا ہے کہ ستائیس جنوری کو دن کے وقت گیارہ افراد اس کی بیٹی کو گھر سے اٹھاکر لے گئے اور گاؤں کے ایک گھر کی بیٹھک میں لے جاکر اس سے چار افراد نے زیادتی کی اور بعد میں اسے برہنہ گھرسے باہر نکال دیا۔
تفتیشی افسر آفتاب فاروقی نے بی بی سی کو بتایا کہ چھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دوسروں کی تلاش جاری ہے، ان کے مطابق جو جرم کرتا ہے وہ گھر میں تو نہیں بیٹھا رہتا ، جب تک پولیس کو واقعہ کی اطلاع ملتی ہے ملزم فرار ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے خاندان کی ایک لڑکی مبینہ طور پر ایک نوجوان گامن لبانو کے ساتھ گھر چھوڑ گئی تھی دونوں بعد میں پکڑے بھی گئے تھے۔ زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی نسیمہ، گامن کی منگیتر اور کزن ہے، جسے بدلہ لینے کے لیے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی ایک منصوبہ بندی کے تحت کی گئی اور ایک ملزم کے سوا، واردات میں جس کا گھر استعمال کیا گیا تھا، باقی تمام ملزم قریبی علاقے ڈھرکی سے آئے تھے۔ پوچھ گچھ کے دوران لڑکی نے پولیس کو بتایا ہے کہ اسے ملزموں نےتشدد کا بھی نشانہ بنایا اور بعد میں اسے برہنہ کر کے گھر سے نکال دیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ابھی گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جارہے ہیں۔ مگر جو ملزم گرفتار ہیں انہوں نے الزام کی تردید کی ہے۔ | اسی بارے میں شہزادی کی انصاف کے لیے اپیل13 December, 2006 | پاکستان نوشہرو فیروز میں گینگ ریپ03 November, 2006 | پاکستان پانچ افراد کو سزائے موت، مدعی منحرف06 July, 2006 | پاکستان ’زیادتی نہیں ہوئی‘، مقدمہ خارج16 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||